خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 42
42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء خطبات مسرور جلد 19 جب رات ڈھل جاتی اور ستارے ماند پڑ جاتے تو آپ اپنی داڑھی پکڑ کر ایسے تڑپتے جیسے سانپ کا ڈسا ہوا ہے اور سخت غمگین شخص کی طرح روتے اور کہتے اے دنیا ! جا تو میرے سوا کسی اور کو جاکر دھوکا دے۔کیا تو میرے منہ لگتی ہے اور مجھے بن سنور کر دکھاتی ہے۔تو جو چاہتی ہے وہ کبھی نہیں ہو گا، کبھی نہیں ہو گا۔میں تو تمہیں تین طلاقیں دے چکا جن کے بعد کوئی رجوع نہیں ہو تا کیونکہ تیری عمر تھوڑی ہے اور تو بے وقعت ہے۔یہ تمثیلی زبان میں دنیا سے مخاطب ہیں کیونکہ تیری عمر تھوڑی ہے اور تو بے وقعت ہے۔آہ ! زادِ راہ کم ہے اور سفر لمبا اور راستہ وحشت ناک ہے۔آپ کی صفات کے بارے میں یہ ساری باتیں بتائیں تو یہ سن کر امیر معاویہ روپڑے اور کہا۔اللہ ! ابوالحسن پر رحم کرے۔خدا کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔اے ضرار ! علی کی وفات پر تمہیں کیسا غم ہوا ؟ خیر ار نے کہا اس عورت کے غم جیسا جس کے بچے کو اس کی گود میں ہی ذبح کر دیا جائے۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 3 صفحه 1107-1108 ذکر علی بن ابی طالب دار الجيل بيروت 1992ء) حضرت علی کے قضائی فیصلے: حضرت علی کے قضائی فیصلے بہت مشہور ہیں۔ان میں سے بعض بیان کرتا ہوں جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائے ہیں۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ " حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ایک واقعہ جو طبری نے لکھا ہے، بتاتا ہے کہ ابتدائے اسلام سے اس احتیاط پر عمل ہو تا چلا آیا ہے۔وہ واقعہ اس طرح ہے کہ عدل بن عثمان بیان کرتے ہیں۔" حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی ساری عربی عبارت ہی لکھی ہے میں اس وقت وہ عربی کی عبارت چھوڑ دیتا ہوں۔ان شاء اللہ خطبہ چھپے گا تو اس وقت یہ لکھی جائے گی: رَأَيْتُ عَلِيًّا عَمَّ خَارِجًا مِنْ هَمْدَانَ فَرَأَى فِئَتَيْنِ تَقْتُلَانِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ مَضَى فَسَمِعَ صَوْتًا يَاغَوْتًا بِاللَّهِ فَخَرَجَ يَحُضُّ نَحْوَهُ حَتَّى سَمِعْتُ خَفْقَ نَعْلِهِ وَهُوَ يَقُوْلُ آتَاكَ الْغَوْثُ فَإِذَا رَجُلٌ يُلَازِهُ رَجُلًا فَقَالَ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ بِعْتُ مِنْ هَذَا ثَوْ بَا بِتِسْعَةِ دَرَاهِمَ وَشَرَطْتُ عَلَيْهِ أَنْ لَّا يُعْطِيَنِي مَغْمُورًا وَلَا مَقْطُوْعًا وَكَانَ شَرْطُهُمْ يَوْمَئِذٍ فَاتَيْتُهُ بِهَذِهِ الدَّرَاهِمِ لِيُبَدِّلَهَا لِى فَابى فَلَزِمْتُهُ فَلَطَمَنِى فَقَالَ ابْدِلْهُ فَقَالَ بَيْنَتُكَ عَلَى اللَّطْمَةِ فَآتَاهُ بِالْبَيِّنَةِ فَاقْعَدَةُ ثُمَّ قَالَ دُونَكَ فَاقِصَّ فَقَالَ إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ اَنْ اَحْتَاطَهُ فِي حَقِّكَ ثُمَ ضَرَبَ الرَّجُلَ تِسْعَ دُرّاتٍ وَقَالَ هَذَا حَقٌّ السُّلْطَانِ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ " میں نے دیکھا کہ حضرت علی ہمدان سے باہر مقیم تھے کہ اسی اثناء میں آپ نے دو گروہوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا اور آپ نے ان میں صلح کرادی لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ آپ کو کسی شخص کی آواز آئی کہ کوئی خدا کے لیے مدد کو آئے۔پس آپ تیزی سے اس آواز کی طرف دوڑے حتی کہ آپ کے جوتوں کی آواز بھی آرہی تھی اور آپ کہتے چلے جاتے تھے کہ مدد آگئی۔مدد آگئی۔جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے سے لپٹا ہوا ہے۔جب اس نے آپ کو دیکھا تو عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! میں نے اس شخص کے پاس ایک کپڑا انو در ہم کو بچا تھا اور شرط یہ تھی کہ کوئی روپیہ " یعنی جو درہم ہے وہ " مشکوک یا کٹا ہوا نہ ہو اور اس نے " خریدنے والے نے " اس کو منظور کر لیا تھا لیکن آج جو میں اس کو بعض ناقص روپے دینے کے لئے آیا اس نے جب مجھے روپے دیے تو ان درہم میں سے بعض ناقص تھے۔جب میں ان کو ناقص