خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 41

خطبات مسرور جلد 19 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء دونوں اپنے اختلاف کو بھول کر شیر پر جھپٹ پڑیں گے۔اس مثال سے اس نے یہ بتایا کہ تو چاہتا ہے کہ اس وقت حضرت علی اور معاویہ کے اختلاف سے فائدہ اٹھالے لیکن میں یہ بتا دیتا ہوں کہ جب بھی کسی بیرونی دشمن سے لڑنے کا سوال پید اہو گا یہ دونوں اپنے باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے اور دشمن کے مقابلے میں متحد ہو جائیں گے اور ہوا بھی یہی۔جب حضرت معاویہ کو روم کے بادشاہ کے ارادے کا علم ہوا تو آپ نے اسے پیغام بھیجا کہ تُو چاہتا ہے کہ ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کرے لیکن میں تمہیں بتادینا چاہتا ہوں کہ میری حضرت علی کے ساتھ بیشک لڑائی ہے لیکن اگر تمہارا لشکر حملہ آور ہوا تو حضرت علی کی طرف سے اس لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے جو سب سے پہلا جرنیل نکلے گا وہ میں ہوں گا۔(ماخوذ از مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات، انوار العلوم جلد 25 صفحہ 416-417) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ ہم میں سب سے بہتر قرآن پڑھنے والے اُبی بن کعب نہیں اور ہم میں سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی نہیں۔(صحيح البخارى كتاب التفسير سورة البقرة باب قوله ما ننسخ من آية او ننسها نات بخير منها او مثلها حديث 4481) حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس میں حضرت علیؓ بھی تھے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے سنا۔اے اللہ !تُو مجھے موت نہ دینا جب تک کہ تو مجھے علی کو دکھانہ دے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 4 صفحه 100 ذکر علی بن ابی طالب، دارالفکر بيروت 2003ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت علی کو ایک سریہ پر بھیجا۔جب وہ واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ اور اس کار سول اور جبرئیل تجھ سے راضی ہیں۔ا (كنز العمال جلد 13 صفحه 107 حدیث 36349 مؤسسة الرسالة بيروت 1985ء) ایک جگہ ایک واقعہ آتا ہے کہ امیر معاویہ نے خیر ار صدائی سے کہا کہ مجھے حضرت علی کے اوصاف بتاؤ۔اس نے کہا کہ امیر المومنین ! مجھے اس سے معاف فرمائیں۔امیر معاویہ نے کہا تمہیں بتانا پڑے گا۔ضرار نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر سنیں۔خدا کی قسم !حضرت علی بلند حوصلہ اور مضبوط قوی کے مالک تھے۔فیصلہ کن بات کہتے اور عدل سے فیصلہ کرتے تھے۔آپ علم و معرفت کا بہتا چشمہ تھے اور آپ کی بات بات سے حکمت ٹپکتی تھی۔آپ دنیا اور اس کی رونقوں سے وحشت محسوس کرتے اور رات اور اس کی تنہائی سے انس رکھتے تھے۔آپ بہت رونے والے اور بہت غور و فکر کرنے والے انسان تھے۔آپ مختصر لباس اور نہایت سادہ کھانا پسند کرتے تھے۔آپ ہمارے در میان ہمارے جیسے ایک عام شخص کی طرح رہتے تھے۔ہم سوال کرتے تو آپ جواب دیتے اور کسی واقعہ کی بابت دریافت کرتے تو اس کے بارے میں بتاتے۔خدا کی قسم! باوجودیکہ ہمارا ان سے اور ان کا ہم سے محبت اور قرب کا بڑا تعلق تھا مگر ہم ان کے رعب کی وجہ سے ان سے کم کم بات کرتے تھے۔وہ دیندار لوگوں کی تعظیم کرتے اور مساکین کو اپنے قرب میں جگہ دیتے تھے۔کوئی طاقتور شخص یہ طمع نہیں رکھ سکتا تھا کہ وہ اپنی جھوٹی بات آپ سے منوالے گا اور کوئی کمزور شخص آپ کے عدل و انصاف سے مایوس نہ ہو تا تھا۔خدا کی قسم ! بعض موقعوں پر میں نے دیکھا کہ