خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 40
40 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء خطبات مسرور جلد 19 تھا۔یہی حال حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کا تھا۔بیشک ان کا درجہ اپنے سے پہلے خلیفوں سے کم تھا لیکن ان کے وقت جو واقعات پیش آئے ان میں ان کے درجہ کا اتنا اثر نہیں تھا جتنار سول کریم کے زمانہ سے دور ہونے کا اثر تھا کیونکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے وقت زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی تھی لیکن بعد میں دوسروں کا زیادہ دخل ہو گیا۔چنانچہ جب حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فسادنہ ہوتے تھے جیسے آپ کے وقت میں ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ ابو بکر اور عمر کے ماتحت میرے جیسے لوگ تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں۔" (جماعت احمدیہ اور ہماری ذمہ داریاں ، انوار العلوم جلد 5 صفحہ 95) پھر ایک اور جگہ حضرت مصلح موعود ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " ایک شخص اس زمانہ میں جبکہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان جنگ جاری تھی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ حضرت علی کے زمانہ کی جنگوں میں کیوں شامل نہیں ہوتے حالانکہ قرآن کریم میں صاف حکم موجود ہے کہ وَقْتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے یہ حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں پورا کر دیا ہے جبکہ اسلام بہت قلیل تھا اور آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے فتنہ میں ڈالا جاتا تھا یعنی یا تو اسے قتل کیا جاتا تھایا عذاب دیا جا تا تھا یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔پھر کسی کو فتنہ میں نہیں ڈالا جاتا تھا۔" ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 427-428 ) یعنی اگر جنگیں تھیں تو دین بدلنے کے لیے تھیں اور ان کے خلاف تھیں جو دین بدلنا چاہتے تھے۔اب یہاں تو دین قائم ہو گیا۔اسلام قائم ہو گیا۔عقیدے کا تو کوئی اختلاف نہیں ہے۔بعض نظریاتی اختلاف ہیں اس لیے میں جنگوں میں شامل نہیں ہو تا۔بہر حال یہ ان کا اپنا ایک نظریہ تھا۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ " جب رومی بادشاہ نے حضرت علی اور حضرت معاویہ کی جنگ کی خبر معلوم کر کے اسلامی مملکت پر حملہ کرنا چاہا تو حضرت معاویہؓ نے اسے لکھا کہ ہوشیار رہنا ہمارے آپس کے اختلاف سے دھو کہ نہ کھانا۔اگر تم نے حملہ کیا تو حضرت علی کی طرف سے جو پہلا جر نیل تمہارے مقابلہ کے ( تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 430) لئے نکلے گاوہ میں ہوں گا۔" آپ نے اس کا ذرا تفصیل سے ذکر اس طرح بھی بیان فرمایا کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب روم کے بادشاہ نے حضرت علی اور حضرت معاویہ میں اختلاف دیکھا تو اس نے چاہا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر بھیجے۔اس وقت رومی سلطنت کی ایسی ہی طاقت تھی جیسی اس وقت امریکہ کی ہے۔اس کی لشکر کشی کا ارادہ دیکھ کر ایک پادری نے جو بڑا ہوشیار تھا کہا بادشاہ سلامت آپ میری بات سن لیں اور لشکر کشی کرنے سے اجتناب کریں۔یہ لوگ اگر چہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن آپ کے مقابلے میں متحد ہو جائیں گے اور باہمی اختلاف کو بھول جائیں گے۔پھر اس نے ایک مثال دی وہ بھی شاید اس نے تحقیر کے رنگ میں ہی دی ہو بہر حال کس نیت سے دی، تحقیر کی نیت سے یا ویسے ہی سمجھا ہو گا کہ یہ بہتر مثال ہے۔اس نے کہا کہ آپ کتے منگوائیں اور انہیں ایک عرصہ تک بھوکا رکھیں۔پھر ان کے آگے گوشت ڈالیں وہ آپس میں لڑنے لگ جائیں گے۔اگر آپ انہی کتوں پر شیر چھوڑ دیں تو وہ