خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 39

خطبات مسرور جلد 19 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء مخلوق پر ظلم کرنے اور تیرے حق کو چھوڑنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ابجر بن جُرموز اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے حضرت علی بن ابو طالب کو دیکھا کہ آپ کو فہ سے نکل رہے تھے اور آپ کے اوپر دو قطری چادریں تھیں۔قطر بحرین کی ایک بستی کا نام ہے جہاں سرخ دھاری دار چادریں بنتی تھیں۔جن میں سے ایک کو آپ نے تہبند کے طور پر باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوپر لیا ہوا تھا۔آپ کی تہبند نصف پنڈلی تک تھی۔آپ ایک کوڑا تھامے ہوئے بازار میں چل رہے تھے اور لوگوں کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے ، سچی بات کہنے ، عمدگی سے خرید و فروخت کرنے اور ماپ تول اور وزن کو پورا کرنے کی تلقین فرمارہے تھے۔مُجَمَّعُ تیمی سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت علی نے بیت المال میں جتنا مال تھا وہ سارے کا سارا مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔پھر آپ کے حکم سے اس میں چونا کروایا گیا۔پھر آپ نے اس میں اس امید پر نماز پڑھی کہ قیامت کے دن وہ آپ کے لیے گواہی دے۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 03 صفحه 1111 تا 1113 ذكر على بن ابى طالب، دارالجيل بيروت 1992ء) (لغات الحدیث جلد 3 صفحہ 575 نعمانی کتب خانہ لاہور 2005ء) حضرت مصلح موعود حضرت علی کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 17 دسمبر 1892ء کو اپنا ایک رؤیا بیان فرمایا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں۔اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقع ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور توڑ د سے مجھے فرماتے ہیں کہ : يَا عَلَى دَعْهُمْ وَأَنْصَارَهُمْ وَزِرَا عَتَهُمْ یعنی اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے۔" ( برکات خلافت ، انوار العلوم جلد 2 صفحہ 176) حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ "حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے لشکر کی تمام چیزوں پر قبضہ کر لیا۔ہتھیار اور جنگی سواریاں تو لوگوں میں تقسیم کروائے لیکن سامان و غلام اور لونڈیوں کو کوفہ واپس آنے پر (مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ، انوار العلوم جلد 23 صفحہ 363) ان کے مالکوں کو لوٹا دیا۔" پھر ایک اور حوالے سے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ : " حضرت ابو بکر کے زمانہ کی نسبت حضرت عمر کا زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ دور