خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد 19 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔(مجمع الزوائد جلد 09 صفحه 126 كتاب المناقب، مناقب علی بن طالب حديث 14757 دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت زر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا۔یقینا نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مجھ سے عہد تھا کہ مجھ سے صرف مومن محبت رکھے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔(صحیح مسلم كتاب الايمان باب الدليل على ان حب الانصار۔الخ حدیث نمبر (240) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ تمہاری مثال حضرت عیسی کی سی ہے جن سے یہودیوں نے اتنا بغض کیا کہ ان کی والدہ پر بہتان باندھ دیا اور عیسائی لوگ آپ کی محبت یعنی عیسی علیہ السلام کی محبت میں اس قدر بڑھ گئے کہ انہوں نے آپ کو وہ مقام دے دیا جو کہ ان کا مقام نہ تھا۔پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: خبر دار ! میرے بارے میں دو طرح کے آدمی ہلاک ہوں گے۔ایک وہ جو محبت میں غلو کر کے مجھے وہ مقام دیں گے جو کہ میر امقام نہیں ہے اور دوسرے وہ لوگ جو مجھ سے بغض رکھیں گے اور میری دشمنی میں مجھ پر بہتان باندھیں گے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 439 مسند على بن ابى طالب حدیث 1377 عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت علی کے کے مال یعنی وہ مالِ غنیمت جو دشمن سے جنگ کیے بغیر ہاتھ لگے ، اس کی تقسیم میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق کو اختیار کرتے تھے۔آپ کے پاس جب بھی مال آتا تو آپ وہ سارے کا سارا تقسیم کر دیتے اور اس میں سے کچھ بھی بچا کر نہ رکھتے سوائے اس کے جو اس روز تقسیم ہونے سے رہ جاتا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اے دنیا! جا میرے علاوہ کسی اور کو جا کر دھوکا دے۔آپ کے کے مال میں سے نہ تو خو د لیتے اور نہ کسی گہرے دوست یا عزیز کو اس میں سے کچھ دیتے۔آپ گورنری اور عہدہ وغیر ہ صرف دیانت دار اور امین لوگوں کو دیتے۔جب آپ کو ان میں سے کسی کی خیانت کی خبر پہنچتی تو آپ ان کو یہ آیات لکھ کر بھیجتے۔قَدْ جَاءَ تَكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ - (يونس: 58) یقینا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت کی بات آچکی ہے اور أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَ الْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ - بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٌ - (هود: 86-87) ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں ان کو کم کر کے نہ دیا کرو اور زمین میں مفسد بنتے ہوئے بد امنی نہ پھیلاؤ۔اللہ کی طرف سے جو تجارت میں بچتا ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سچے مومن ہو اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔نیز اسے لکھتے جب میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچے تو تمہارے پاس ہمارے جو اموال ہیں وہ سنبھال کر رکھنا یہاں تک کہ ہم تمہاری طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو تم سے وہ اموال وصول کرے۔پھر آپ اپنی نظریں آسمان کی طرف کر کے فرماتے اے اللہ ! یقینا تو جانتا ہے کہ میں نے انہیں تیری