خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 37
خطبات مسرور جلد 19 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد کیا کہ سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد کیا یعنی حضرت علی نے ارشاد کیا کہ سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔سنو ! جنگ بدر میں ہم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سائبان بنایا تھا۔ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سائبان کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا؟ کہیں ایسانہ ہو کہ کوئی مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دے۔بخدا ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا کہ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شمشیر برہنہ کے ساتھ ، شمشیر برہنہ ہاتھ میں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور پھر کسی مشرک کو آپ کے پاس آنے کی جرات نہ ہو سکی۔اگر کسی نے ایسی جرآت کی بھی تو آپ فوراً اس پر ٹوٹ پڑے۔اس لیے آپ ہی سب سے زیادہ بہادر ہیں یعنی حضرت ابو بکر۔یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نرغے میں لے لیا اور وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم ہی وہ ہو جو کہتے ہو کہ خدا ایک ہے۔حضرت علی فرما رہے ہیں کہ خدا کی قسم! کسی کو مشرکین سے مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہوئی لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مار مار کر اور دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے، تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخص کو ایذا پہنچا رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار صرف اللہ ہے۔یہ فرما کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چادر اٹھائی، چادر منہ پر رکھ کر اتنا روئے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی داڑھی بھیگ گئی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے۔اے لوگو ! بتاؤ کہ مومن آل فرعون اچھے تھے کہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچھے ہیں۔آل فرعون سے جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے پیغمبر پر اس قدر جاں نثاری نہیں کی جتنی ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے۔لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے لو گو اجواب کیوں نہیں دیتے۔خدا کی قسم ! ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک ساعت آل فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر ہے اور بڑھ کر ہے اس لیے کہ وہ لوگ اپنا ایمان چھپاتے پھرتے تھے اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔(ماخوذ از درس القرآن حضرت خلیفہ المسیح الرابع بیان فرمودہ 16 فروری1994ء صفحہ :98-99) حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو نصیحت کی۔فرمایا اے علی ! اگر تیری تبلیغ سے ایک آدمی بھی ایمان لے آئے تو یہ تیرے لئے اس سے بہتر ہے کہ دو پہاڑوں کے در میان تیری بھیڑوں اور بکریوں کا ایک بڑا بھاری گلہ جارہا ہو اور تو اسے دیکھ کر خوش ہو۔" ( ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے ، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 464 ) ام المومنین حضرت ام ساری بیان کرتی ہیں کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی