خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 36
خطبات مسرور جلد 19 36 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء ہوئی۔کسی گھر والے نے کبھی مجھے یہ نہیں کہا کہ واپس چلے جاؤ۔( تفسير الجامع لاحكام القرآن للقرطبي جلد 15 صفحه 199 سورة النور زير آيت 29 مؤسسة الرسالة بيروت 2006ء) آج کل اگر ہم کسی کو کہیں کہ مصروف ہیں، واپس چلے جاؤ یا ملاقات نہیں ہو سکتی تو لوگ بُر امان جاتے ہیں لیکن صحابہ کا تقوی یہ تھا کوشش کرتے تھے کہ قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کریں۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کسی غرض کے لئے صحابہ سے چندہ مانگا۔حضرت علی باہر گئے گھاس کاٹا اور اسے بیچ کر جو قیمت ملی وہ چندہ میں دے دی۔" (خطبات محمود جلد 33 صفحہ 357) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ایک دفعہ واقعات بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ غالباً اپنے درس میں بیان فرمایا تھا کہ حضرت علامہ عبید اللہ صاحب بسمل ایک چوٹی کے شیعہ عالم تھے۔اتنے بزرگ اور اتنے علم میں گہرے اور متبحر کہ جب یہ احمدی ہو گئے تو اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ہی نہیں بعد میں پارٹیشن تک، پار ٹمیشن کے بعد بھی ان کی بعض کتب ابھی تک تدریس کے طور پر شیعہ مدرسوں میں پڑھائی جارہی ہیں کیونکہ مجھے یاد ہے خلیفہ المسیح الرابع کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شیعہ دوست میرے پاس گفتگو کے لیے آئے جب میں وقف جدید میں ہو تا تھا تو گفتگو کے بعد انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور اللہ کے فضل سے احمدی ہو گئے۔اس فیصلہ کے بعد انہوں نے بتایا کہ میں پہلے آپ کو بتایا نہیں کرتا تھا۔پہلے وہ ایک شیعہ عالم تھے ، ان کا مجھے عہدہ یاد نہیں مگر وہ شیخو پورہ کے کسی گاؤں یا فیصل آباد کے کسی گاؤں، ان کے بازو کے علاقے کے تھے کہیں کے، انہوں نے بتایا کہ میں شیعوں میں یہ مرتبہ رکھتا ہوں، عالم ہوں۔یعنی کہ یہ جو آدمی جنہوں نے بیعت کی ان کے بارے میں خلیفہ رابع بتارہے ہیں کہ وہ شیعہ عالم تھے۔اور (وہ کہتے ہیں) میں عالم ہوں اور شیعوں میں کافی مر تبہ رکھتا ہوں لیکن آج میں آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ ابھی تک عبید اللہ صاحب بسمل کی کتب ہمارے مدرسوں میں پڑھائی جارہی ہیں۔اتنا ان کا رعب ہے، ان کے علم کا اور ہمیں یہ لوگ بتاتے نہیں۔خلیفہ رابع کہتے ہیں ہمیں یہ شیعہ لوگ نہیں بتاتے کہ کس طرح وہ بسمل صاحب کی کتابیں پڑھا رہے ہیں۔آپ بتارہے ہیں کہ مجھے تو ویسے پتہ لگ گیا ہے اس عالم کے ذریعہ سے۔لیکن یہ وہاں پڑھاتے ہوئے نہیں بتاتے کہ وہ کون تھا اور بعد میں ، بسمل صاحب کے ساتھ کیا ہوا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا اور ان ساری عزتوں کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا جو ان کو اس زمانے میں شیعہ مسلک سے حاصل تھیں۔یہ ان کی کتب کا حوالہ ہے یعنی کسی معمولی آدمی کا حوالہ نہیں ہے۔اس کتاب کا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع حوالہ دے رہے ہیں۔یہ ساری تمہید باندھ کے کہ البزار نے اپنی مسند میں لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا کہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ جواب دیا کہ آپ سب سے زیادہ بہادر ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں پھر میں سب سے زیادہ بہادر کیسے ہوا؟ اب تم یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ حضرت علی نے دوبارہ پوچھا۔یہ بسمل صاحب نے ایک کتاب کے حوالے سے اپنی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔لوگوں نے کہا کہ جناب ہم کو نہیں معلوم آپ ہی فرمائیں۔آپ