خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد 19 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء کے سامنے رکھتے جاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح کر رہے تھے۔حضرت علی جوان تھے کھانے میں مصروف رہے اور اس طرف نہیں دیکھا۔جب دیکھا تو گٹھلیوں کا ڈھیر آپ کے سامنے لگا ہوا تھا۔صحابہ نے مذاقاً حضرت علیؓ سے کہا تم نے ساری کھجوریں کھالی ہیں !! یہ دیکھو ! ساری گٹھلیاں تمہارے آگے پڑی ہیں۔حضرت علیؓ کی طبیعت میں بھی مذاق تھا۔چڑ چڑا پن نہیں تھا۔چڑ چڑا پن ہو تا تو آپ صحابہ سے لڑ پڑتے اور کہتے کہ آپ مجھ پر الزام لگاتے ہیں یا مجھ پر بد ظنی کرتے ہیں۔حضرت علی سمجھ گئے کہ یہ مذاق ہے جو اُن سے کیا گیا ہے۔" حضرت علی نے سوچا کہ " اب میری خوبی یہ ہے کہ میں بھی اس کا جواب مذاق میں دوں۔" چنانچہ " آپ نے فرمایا: آپ سب گٹھلیاں بھی کھا گئے ہیں لیکن میں گٹھلیاں رکھتارہا ہوں" کہ آپ سب لوگ جب کھا رہے تھے تو گٹھلیوں سمیت کھجوریں کھا گئے ہیں لیکن میں نے گٹھلیاں رکھی ہوئی ہیں " اور ثبوت اس کا یہ ہے کہ گٹھلیوں کا ڈھیر میرے سامنے پڑا ہے۔صحابہ پر یہ مذاق الٹ پڑا۔" (خطبات محمود جلد 33 صفحہ 259-260) حضرت مصلح موعود ایک جگہ حضرت علی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ " حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت فرمارہے تھے کہ حضرت علی نے لقمہ دیا۔نماز کے بعد آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ یہ تمہارا کام نہ تھا۔غلطی کی طرف توجہ دلانے کے لئے میں نے آدمی مقرر کئے ہوئے ہیں۔" (خطبات محمود جلد 25 صفحہ 299) نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے تو کہیں آگے پیچھے ہو گیا ہو گا اور حضرت علی نے لقمہ دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کے لیے مقرر کیے ہوئے ہیں تم نہ دو۔حالانکہ حضرت علی بھی کافی عالم تھے۔حضرت مصلح موعودؓ ایک اور جگہ بیان فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم میں حکم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی مشورہ او تو پہلے صدقہ دے لیا کرو۔کہتے ہیں حضرت علیؓ نے اس حکم سے پہلے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مشورہ نہ لیا تھا مگر جب یہ حکم نازل ہو ا تو حضرت علی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ رقم بطور صدقہ پیش کر کے عرض کیا کہ میں کچھ مشورہ لینا چاہتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الگ جا کر حضرت علی سے باتیں کیں۔کسی دوسرے صحابی نے حضرت علی سے دریافت کیا کہ کیا بات تھی جس کے متعلق آپ نے مشورہ لیا؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ کوئی خاص بات تو مشورہ طلب نہ تھی مگر میں نے چاہا کہ قرآن کریم کے اس حکم پر بھی عمل ہو جائے۔" (خطبات محمود جلد 25 صفحہ 752) یہ تھے صحابہ کے طریق۔ایک جگہ یہ واقعہ اس طرح بھی ملتا ہے کہ ایک صحابی لوگوں کے گھروں میں جایا کرتے تھے کہ قرآن کریم کا یہ جو حکم ہے کہ اگر تمہیں کوئی گھر والا کہے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جاؤ۔کہتے ہیں میں نے کئی دفعہ کوشش کی بلکہ بعض دفعہ روزانہ کوشش کی، کسی نہ کسی گھر میں جاتا کہ کوئی مجھے کہے کہ واپس چلے جاؤ اور میں خوشی خوشی واپس آجاؤں تا کہ قرآن کریم کے حکم کی تعمیل ہو جائے لیکن میری یہ خواہش کبھی پوری نہیں