خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 34
خطبات مسرور جلد 19 قائم مقام صفت صادق کی ہے۔34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 5 صفحه 17) یعنی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ! تو کافی ہے۔تو ہادی ہے۔تو علیم ہے اور تو سچا ہے، صادق ہے۔تیری تمام صفات کا واسطہ ہے کہ مجھے بخش دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ " مفسرین حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ اپنے ایک نوکر کو آواز دی مگر وہ نہ بولا۔آپ نے بار بار آواز دی مگر پھر بھی اس نے کوئی جواب نہ دیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکا اتفاقا آپ کو سامنے نظر آگیا تو آپ نے اس سے پوچھا مَا لَكَ لَمْ تُجِبْنِي کہ تجھے کیا ہو گیا کہ میں نے تجھے اتنی بار بلایا مگر تو پھر بھی نہیں بولا۔قَالَ لِثِقَتِى بِحِلْمِكَ وَآمْنٍ مِنْ عُقُوبَتِكَ فَاسْتَحْسَنَ جَوَابَهُ وَاعْتَقَهُ اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مجھے آپ کی نرمی کا یقین تھا اور آپ کی سزا سے میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہوں۔اس لئے میں نے آپ کی بات کا جواب نہ دیا۔حضرت علی کو اس لڑکے کا یہ جواب پسند آیا تو ( تفسیر کبیر جلد 8 صفحه 255) آپ نے اسے آزاد کر دیا۔" اب کوئی دنیادار ہو تا تو شاید اسے سزا دیتا کہ تومیری نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھارہا ہے لیکن آپ نے اس کو انعام سے نوازا۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ "حضرت علی کے بیٹوں حسن اور حسین کو ایک شخص پڑھایا کرتا تھا۔حضرت علی ایک دفعہ اپنے بچوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے سنا کہ آپ کے بچوں کو ان کا استاد خاتم النبیین پڑھا رہا تھا۔حضرت علی نے فرمایا: میرے بچوں کو عاتم النبیین نہ پڑھاؤ بلکہ خاتم النبیین پڑھایا کرو یعنی 'ت' کے نیچے زیر کے بجائے 'ت' کے اوپر زبر کے ساتھ پڑھاؤ۔" یعنی بیشک یہ دونوں قراء تیں ہیں لیکن میں خاتم النبیین کی قراءت کو زیادہ پسند کرتا ہوں کیونکہ خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں کی مہر اور خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں کو ختم کرنے والا۔میرے بچوں کو تاء کی زبر سے پڑھایا کرو۔" ( فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 404) پھر حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں " حضرت علی کی نسبت بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کے حافظ تھے بلکہ انہوں نے قرآن شریف کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن لکھنے کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معابعد شروع کر دیا تھا۔" (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 429) ایک جگہ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ " رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کسی صحابی نے کھانے پر بلایا۔بعض صحابہ بھی مدعو تھے جن میں حضرت علی بھی شامل تھے۔آپ کی عمر نسبتاً چھوٹی تھی " حضرت علی کی عمر چھوٹی تھی " اس لئے بعض صحابہ کو آپ سے مذاق کی سو جھی۔وہ کھجوریں کھاتے جاتے تھے اور گٹھلیاں حضرت علی