خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 29
خطبات مسرور جلد 19 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء میں اپنے وقف جدید اور تحریک جدید کے چندے ادا کر دیں۔اس سال آمدنی کم تھی، وعدہ پورا کر نا بظاہر نا ممکن تھا۔مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے رمضان کے مہینے میں روزے کے ساتھ انہیں خود دیکھا ہے کہ وہ روزانہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پہاڑی علاقے میں چار کلو میٹر کا سفر طے کر کے اپنے کینڈل نٹ (candlemut) کے کھیت میں جاتے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے وعدہ جات پورے کر سکیں۔چنانچہ انہوں نے رمضان کے اندر ہی اپنا دولاکھ کا وعدہ پورا کر دیا اور اتنی رقم بغیر سخت جدوجہد کے اکٹھی کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔مبلغ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کیا چیز مجبور کرتی ہے کہ آپ روزے کے ساتھ اتنی مشقت کرتے ہیں۔اس پر یہ کہنے لگے کہ میں اور میرے اہل خانہ صرف خلیفہ وقت کے احکامات پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔برکینا فاسو کے ریجن اکا یا کی ایک جماعت ہے۔وہاں کے ایک دوست نیا نیا (Nianpa) صاحب ہیں، ان کو بیعت کیے دس سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن چندوں کی ادائیگی میں کمزور تھے۔گھر میں اکثر بیماری اور تنگی کے حالات رہتے تھے۔کچھ عرصہ سے انہوں نے چندہ جات خاص طور پر تحریک جدید اور وقف جدید میں با قاعدگی سے ادائیگی کرنی شروع کر دی جس کی وجہ سے نہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ہاں تنگی جاتی رہی بلکہ جو بیماریاں تھیں ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرمائی اور اس سال انہوں نے بڑھ چڑھ کر وقف جدید میں حصہ لیا اور جو لوگ انہیں کام نہیں دیتے تھے وہ خود چل کر ان کے پاس کنٹریکٹ کرنے آئے اور کام دیا۔اور میں صاحب کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہی ہے کہ اس نے وقف جدید کے ذریعہ سے مال بڑھانے کا سبب عطا فرمایا۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے قرض کو بڑھا کر واپس دینے کے انداز۔یہ چند واقعات میں نے بیان کیے ہیں۔ایسے بے شمار واقعات ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت کے افراد کے ساتھ ایسا سلوک رکھے اور وہ اخلاص و وفا سے قربانیاں بھی دیتے رہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے نظارے بھی دکھاتا رہے۔اب میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے گزرے ہوئے سال کے کچھ اعداد و شمار پیش کروں گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تریسٹھواں سال 31 دسمبر 2020ء کو ختم ہوا اور چونسٹھواں سال یکم جنوری سے شروع ہو گیا۔اللہ کے فضل سے جماعت کو اس سال کے دوران میں ایک کروڑ پانچ لاکھ تیس ہزار پاؤنڈز (10,530,000 ) کی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔یہ وصولی گذشتہ سال سے آٹھ لاکھ ستاسی ہزار پاؤنڈ ز زیادہ ہے۔الحمد للہ۔اب یہ کسی انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔یہ خالصہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔اس سال بھی برطانیہ دنیا کی جماعتوں میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے اول ہے۔انہوں نے اللہ کے فضل سے کافی اضافہ کیا ہے۔برطانیہ کی لجنہ اماء اللہ اللہ کے فضل سے بڑی محنت سے کام کرتی ہے۔اس دفعہ جس بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس سال مردوں نے بھی لجنہ کی طرح محنت کی ہے۔دوسرے نمبر پر جرمنی ہے۔گو انہوں نے بھی بڑا اضافہ کیا ہے لیکن ابھی برطانیہ ان سے بہت آگے ہے۔پاکستان تو کرنسی کی وجہ سے بہت پیچھے جماعتوں میں چلا گیا ہے گو تیسر انمبر ہی ہے لیکن بہر حال مجموعی طور پر ملکی کرنسی کے لحاظ سے یہاں