خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد 19 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء دیے۔ماہانہ اقساط اتنی مقرر کیں کہ واقعہ میری آمد کے مطابق وہ حقیقی قربانی ہو۔اسی ماہ میں نے بچوں کے سکول میں بطور ٹیچر اسٹنٹ جاب کی درخواست جمع کروادی کہ آگے مزید کام کرنے کے لیے کچھ تجربہ حاصل کر لوں لیکن کامیابی کی کوئی امید نہیں تھی۔کہتی ہیں کہ جس دن میرے اکاؤنٹ سے پہلی چندے کی رقم کی ادائیگی ہوئی ہے اس سے اگلے روز مجھے سکول سے انٹرویو کی کال آئی۔جب اکاؤنٹ سے دوسری ادا ئیگی ہوئی تو مجھے اسسٹنٹ ٹیچر کی بجائے سکول والوں نے ایک اور اہم رول دے دیا جس سے میری آمد دس گنا بڑھ گئی جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کا نتیجہ ہے۔مبلغ فرہاد صاحب جرمنی سے ہیں، وہ کہتے ہیں لوکل عمارت ویز بادن(Wiesbaden) کے ایک خادم نے بتایا کہ وہ تحریک جدید کا چندہ ادا کر چکے تھے بلکہ جور تم وقف جدید میں ادا کرنی تھی وہ بھی اضافی چندہ میں تحریک جدید میں ادا کر دی تھی۔اسی مہینے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے خط آگیا کہ آپ کے ذمہ آٹھ سو یو روز ہیں جو آپ نے ادا کرنے ہیں۔لیکن اس کے باوجود کہتے ہیں میں نے ہمت کر کے وقف جدید کا چندہ ادا کر دیا کہ ٹھیک ہے قرض لے کے ٹیکس بھی دے دیں گے۔اس کے چند ہفتوں بعد ہی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا خط آیا کہ ہم نے دوبارہ آپ کے کاغذات کا جائزہ لیا ہے آپ کے ذمہ کوئی رقم نہیں ہے بلکہ ہم نے آپ کو چار ہزار چار سو یورو واپس کرنے ہیں۔اور کچھ دن کے بعد ہی کہتے ہیں میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا، نقصان ہوا، کسی نے نقصان کر دیا تو اس کے بھی مجھے چار ہزار سات سو یورومل گئے۔اس طرح تھوڑی سی ہمت کر کے میں نے چندہ میں جو اضافہ کیا تھا، جو ادائیگی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی ادائیگی کے سامان پیدا کر دیے۔اب اس کو چاہے کوئی اتفاق کہے لیکن ایک مومن جانتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کا نتیجہ ہے۔کینیڈا کی صدر لجنہ کہتی ہیں کہ ایک بہن بیان کرتی ہیں کہ تین سال پہلے ان کے خاوند اپنی مصروف تھے۔نوکری کے ساتھ باہر کی تمام ذمہ داری ان پر آن پڑی۔اس تھکا دینے والی روٹین نے انہیں مضمحل کر دیا۔وہ بیمار رہنے لگیں۔اسی دوران جب وقف جدید ، تحریک جدید کے وعدوں کا ٹائم آیا تو انہوں نے اپنی آمدنی سے دو گنا وعدہ لکھوا دیا۔کچھ عرصہ کے بعد ان کی جاب ختم ہو گئی۔شدید تنگ دستی کا شکار ہو گئیں۔کریڈٹ کارڈ سے اخراجات پورے کرنے لگیں۔سال کے آخر میں جب چندے ادا کرنے کا وقت آیا تو بحالت مجبوری اللہ تعالیٰ پر تو کل کرتے ہوئے انہوں نے کریڈٹ کارڈ سے ہی چندوں کی ادائیگی بھی کر دی۔خدا تعالیٰ نے عجیب قدرت دکھائی کہ انہی دنوں میں انہیں بینک سے معلوم ہوا کہ ان کی کریڈٹ پروٹیکشن انشورنس ہے اور اگر جاب چلی گئی ہے تو اس کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔اس طرح ان کے کریڈٹ کارڈ کی تمام ادائیگی کا بند و بست ہو گیا اور ساتھ ہی انہیں نئی نوکری بھی مل گئی جو پہلی نوکری سے زیادہ بہتر تھی۔مالی حالات بہتر ہونے لگے۔انہوں نے پہلے سے بڑھ کر لازمی چندوں کی ادائیگی کی، طوعی وعدہ جات کو بھی بڑھا دیا اور اسی دوران ان کے خاوند کی بھی تعلیم مکمل ہو گئی اور تعلیم میں ان کو بھی اچھی جاب مل گئی تو انہوں نے اپنی جاب چھوڑ دی اور خاوند کی جاب سے ہی گزارہ ہونے لگا۔انڈونیشیا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ امین صاحب کے اہل خانہ کی ہمیشہ خواہش ہوتی تھی کہ رمضان کے مہینے