خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 409

خطبات مسرور جلد 19 409 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء تھی اور اس وقت بڑی مضبوطی سے قائم رہے۔مرحوم کی اہلیہ نے لکھا ہے کہ مرحوم نے اہلیہ کے علاوہ آٹھ بچے یاد گار چھوڑے ہیں۔ایک بیٹا ان کا بطور مبلغ خدمت بجالا رہا ہے۔مرحوم کئی مرتبہ جماعت کے صدر کی حیثیت سے خدمت سر انجام دیتے رہے۔دار القضاء انڈونیشیا میں بطور قاضی بھی خدمت کی توفیق پائی۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ایک فعال داعی الی اللہ تھے۔کسی بھی قسم کے مشکل حالات میں تبلیغ کا جذبہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ان کے بیٹے اروان حبیب اللہ ، جو مربی ہیں، کہتے ہیں کہ کئی دفعہ ایسا ہو تا کہ موٹر سائیکل کسی کے گھر چھوڑ کر تبلیغ کے لیے بیسیوں کلو میٹر تک پیدل سفر کیا کرتے تھے۔دوسرے گاؤں جانے کے لیے نہروں اور چٹانوں کو پار کرنا پڑتا تو کرتے۔سفر بہت مشکل ہو تا تھا۔والد صاحب محنت اور مشقت کرنے والے شخص تھے۔جب والد صاحب بطور ٹیچر ملازمت کرتے تھے تو انہوں نے سکول کے پرنسپل کو درخواست کی کہ ان کے پڑھانے کی باری چار ہی دنوں میں کروا دی جائے۔سکول کی جتنی کلاسیں ہیں چار دن میں مکمل کر دیں اور باقی دن چھٹی ہو جائے تاکہ تبلیغ کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔جمعرات میں سکول سے فارغ ہو کر سیدھا تبلیغ کے لیے جاتے اور اتوار کی شام کو ہی گھر واپس آتے تھے بلکہ بعض دفعہ سوموار کی صبح گھر آتے۔بشارت احمد صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں کہ وسطی جاوا کے وو نو سو بو (Wonosobo) علاقے میں دس جماعتیں آپ کے ذریعہ سے قائم ہوئیں۔ہر حالت میں تہجد کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ہر سطح کے لوگوں سے بڑی عزت اور نرمی سے پیش آتے تھے۔ایک بار آپ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آخری ایام تک تبلیغ میں مصروف رہوں اسی میں میری خوشی اور میری صحت کی کنجی تھی۔احمد ہدایت صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ مرحوم ایک بہادر داعی الی اللہ تھے۔جب مخالفت کرنے والے لوگوں کی طرف سے دھمکی ملتی تو کبھی خوف محسوس نہیں کرتے تھے اور بڑاڈٹ کر مقابلہ کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔درجات بلند فرمائے۔اگلا ذ کر چودھری بشیر احمد بھٹی صاحب ابن اللہ داد صاحب بھوڑ و ضلع ننکانہ صاحب کا ہے۔پچانوے سال کی عمر میں ان کی گزشتہ ماہ وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے بیٹے محمد افضل بھٹی صاحب مربی سلسلہ تنزانیہ ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پیدائشی احمدی تھے۔صوم و صلوۃ کے پابند تھے۔انصاف پسند اور صاف گو تھے۔احمدیت اور خلافت کے ساتھ والہانہ عشق تھا ، چھوٹی عمر سے ہی قادیان جلسہ پر جایا کرتے تھے۔گاؤں میں تعویذ گنڈے کرنے والوں سے لوگ بہت ڈرتے تھے، یہ عام رواج ہے ہمارے ملکوں میں۔تو آپ ان لوگوں کو کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں سے نہ ڈرا کرو۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے لیکن گاؤں کے لوگ ان کو یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ لوگ تو احمدی ہیں، آپ ان چیزوں کو نہیں مانتے اس لیے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن ہمیں بڑا خوف ہے۔1953ء میں جب فسادات شروع ہوئے تو مخالفین احمدیت نے علاقے میں جلوس نکالے۔احمدیوں کے گھروں کو آگ لگانے کا پروگرام بنایا۔قریبی گاؤں سے آپ کی برادری کے سر کردہ افراد جو اپنے گاؤں میں بڑا اثر ورسوخ رکھتے تھے مگر احمدی نہیں تھے، کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور انہوں نے کہا کہ احمدی ڈیرے پر رہتے ہیں، کل ہمارا وہاں آگ لگانے کا پروگرام ہے ان کو سمجھا لیں کہ وہاں سے چلے جائیں یا