خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 410

410 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء خطبات مسرور جلد 19 احمدیت سے انکار کر دیں ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔تو ان کے رشتہ داروں نے جب اپنے رشتہ دار کو سمجھایا کہ عارضی طور پر احمدیت کا انکار کر دو۔جب جلوس چلا جائے گا تو پھر واپس اپنے دین پہ آجانا تو آپ نے انہیں کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں ہم نے بڑی سوچ سمجھ کے احمدیت قبول کی ہے۔ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ہم احمدیت کے لیے قربان تو ہو سکتے ہیں مگر یہ گوارا نہیں کر سکتے کہ ایک منٹ کے لیے بھی اپنے ایمان سے پیچھے ہٹیں۔بہر حال انہوں نے کہا اگر تم کچھ نہیں کر سکتے تو نہ کرو ہمارا تو کل اللہ تعالیٰ پر ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ جلوس بھی کچھ فاصلے تک آکے خود بخود تتر بتر ہو گیا اور ان کو ان کے ڈیرے تک آنے کی جرات نہیں ہوئی۔پسماندگان میں دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔ایک بیٹے مکرم افضل بھٹی صاحب مربی سلسلہ تنزانیہ ہیں، وہاں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے جنازہ اور تدفین میں شامل نہیں ہو سکے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے بیٹے جو شامل نہیں ہو سکے ان کو بھی صبر اور حوصلہ کی توفیق دے۔اگلا ذ کر حمید اللہ خادم علی صاحب این چودھری اللہ رکھا ملہی صاحب دار النصر غربی ربوہ کا ہے۔82 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔آپ چودھری اللہ بخش بھلر صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نواسے اور نصر اللہ ملی صاحب شہید مربی سلسلہ کے والد تھے۔مرحوم صوم و صلوۃ کے پابند ، سادہ لوح، شریف النفس، غریب پرور، ایک مخلص اور فدائی احمدی تھے۔دورانِ ملازمت بڑی بہادری سے مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ان کے ایک بیٹے واقف زندگی ہیں۔ربوہ میں طاہر ہارٹ میں کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔اگلا ذکر محمد علی خان صاحب پشاور کا ہے جو شریف اللہ خان صاحب کے بیٹے تھے۔نواسی سال کی عمر میں یا انانوے 89 eighty nine سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔اللہ کے فضل سے 1/8 حصہ کے موصی تھے۔پسماندگان میں تین بیٹیاں اور سات بیٹے شامل ہیں۔ان کی ایک بیٹی سلیمہ صاحبہ جو برہان صاحب کی اہلیہ ہیں یہاں اسلام آباد میں ہی رہتے ہیں۔یہ لکھتی ہیں کہ پہلے یہ لوگ ، ان کا خاندان غیر مبائع تھے۔پھر 1954 ء میں ان کے والد نے خلیفہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت کی اور تاحیات جماعت اور خلافت سے وابستہ رہے اور ان کے والد نے دینی غیرت اور جماعت سے گہری وابستگی کا مظاہرہ کیا۔بہر حال اس کے بعد پھر ان کو جماعتی خدمت کی بھی توفیق ملی۔قائد ضلع خدام الاحمدیہ بھی رہے۔پھر سیکر ٹری وصایا، سیکرٹری تعلیم القرآن وغیر ہ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بڑی گہرائی سے کیا کرتے تھے۔قرآن کریم سے آپ کو بے پناہ محبت تھی۔ہمیشہ آپ کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے دیکھا۔قرآن کریم کا بہت سا حصہ آپ کو زبانی یاد تھا۔دعا گو، نیک، مہمان نواز، سچے اور کھرے انسان تھے۔درود شریف کا بہت ورد کیا کرتے تھے۔لوگوں کی مالی مدد بھی بہت کرتے تھے۔ان کے غیر احمدی رشتہ داروں نے ان کو کہا کہ اگر آپ احمدیت چھوڑ دیں تو ہم آپ کے قدموں میں قربان ہونے کے لیے تیار ہیں تو کہتی ہیں میرے والد نے ان کو جواب