خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 408
خطبات مسرور جلد 19 408 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء میں تجارت کے لیے جاتے تھے ان سے وہاں کے دستور کے مطابق مال تجارت پر دس فیصد ٹیکس لیا جاتا تھا۔ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ ان ملکوں کے تاجر جو ہمارے ملک میں آئیں ان سے بھی اسی قدر محصول لیا جائے یعنی پھر دس فیصد ان سے بھی وصول کیا جائے۔نمبر چودہ یہ ہے کہ دریا کی پیداوار پر محصول لگایا اور محصل مقرر کیے۔نمبر پندرہ: حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی اجازت دی۔نمبر سولہ: جیل خانہ قائم کیا۔نمبر ستر ہ: ڈرے کا استعمال کیا۔نمبر اٹھارہ: راتوں کو گشت کر کے رعایا کے دریافت حال کا طریق نکالا۔نمبر انہیں: پولیس کا محکمہ قائم کیا۔نمبر ہیں: جابجا فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔نمبر اکیس: گھوڑوں کی نسلوں میں اصیل اور مُجَنَّس کی تمیز قائم کی جو اس وقت تک عرب میں نہ تھی۔نمبر بائیں: پرچہ نویس مقرر کیے۔نمبر تئیں: مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے آرام کے لیے مکانات بنوائے۔چوبیس: لاوارث بچوں کی پرورش کے لیے روزینہ مقرر کیے۔پچھیں: مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کرائے۔چھیں: یہ قاعدہ قرار دیا کہ اہل عرب گو کافر ہوں غلام نہیں بنائے جا سکتے۔ستائیس : مفلوک الحال عیسائیوں اور یہودیوں کے روزینے مقرر کیے۔اٹھائیس: مکاتب قائم کیے۔انیتس: معلموں اور مدرسوں کے مشاہرے مقرر فرمائے، تنخواہیں مقرر کیں۔تیں: حضرت ابو بکر کو اصرار کے ساتھ قرآن مجید کی ترتیب پر آمادہ کیا اور اپنے اہتمام سے اس کام کو پورا کیا۔اکتیس : قیاس کا اصول قائم کیا۔بنتیں : فرائض میں عول کا مسئلہ ایجاد کیا یعنی نان نفقہ کے لیے بعض لوگوں کو عیال میں شامل کرنا۔تینتیس: نماز تراویح جماعت سے قائم کی۔چونیتس : تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جاتی تھیں طلاق بائن قرار دیا۔یہ تو آپ نے سزا کے طور پر بھی کیا تھا۔پینتیس: شراب کی حد کے لیے اسی کوڑے مقرر کیے۔چھتیں: تجارت کے گھوڑوں پر زکوۃ مقرر کی۔سینتیں: بنو ثعلب کے عیسائیوں پر بجائے جزیہ کے زکوۃ مقرر کی۔اڑتیں: وقف کا طریقہ ایجاد کیا۔انتالیس: نماز جنازہ میں چار تکبیروں پر تمام لوگوں کا اجماع کروا دیا۔ویسے عمومی طور پر مسنون یہی ہے تین تکبیریں ہوتی ہیں یا پہلی تکبیر کے ساتھ آخری تکبیر تک سلام پھیرنے سے پہلے چار ابھی بھی یہی رائج ہیں۔چالیس یہ ہے کہ مساجد میں وعظ کا طریقہ قائم کیا اور ان کی اجازت سے تمیم داری نے وعظ کہا اور یہ اسلام میں پہلا وعظ تھا۔اکتالیس : اماموں اور موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔بیالیس: مساجد میں راتوں کو روشنی کا انتظام کیا۔تینتالیس : ہجو کرنے پر تعزیر کی سزا قائم کی۔چوالیس : غزلیہ اشعار میں عورتوں کے نام لینے سے منع کیا حالانکہ یہ طریقہ عرب میں مدتوں سے جاری تھا۔علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ اس کے سوا اور بھی عمر کی اولیات ہیں جن کو ہم طوالت کے خوف سے قلم انداز کرتے ہیں۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحہ 401 تا 212،403 دار الاشاعت کراچی 1991ء) بہر حال یہ ذکر ابھی چل رہا ہے۔آئندہ بھی ان شاء اللہ بیان ہو گا۔اس وقت میں بعض مرحومین کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں اور ان شاء اللہ نماز کے بعد نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔پہلا ذ کر مکرم سر پتو ہادی رسوویو ( Suripto Hadi Siswoyo) صاحب انڈونیشیا کا ہے۔اناسی سال کی عمر میں گذشتہ ماہ ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔انہوں نے اکیس سال کی عمر میں بیعت کرلی