خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد 19 407 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء آپ نے ہجرت کا آغاز فرمایا اور بارہ ربیع الاول کو مدینہ پہنچے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صلی للی علم صفحہ 243 از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية جزء 2 صفحه 102 باب هجرة المصطفى واصحابة دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) تقویم ہجری کس سال میں ہوئی؟ اس بارے میں بھی مختلف آراء ہیں۔کب یہ کیلنڈر شروع ہوا؟ کچھ کہتے ہیں سولہ ہجری میں ہوئی۔کچھ کے نزدیک سترہ ہجری میں ہوئی۔کچھ کہتے ہیں کہ اٹھارہ ہجری میں ہوئی۔بعض کے نزدیک اکیس ہجری میں ہوئی۔(فتح الباري لابن حجر جلد7 صفحه 315 کتاب مناقب الانصار باب التاريخ حدیث 3934۔دار الریان للتراث قاهره 1986ء) (الكامل فى التاريخ لابن اثير جزء 1 صفحه -13 دار الكتاب العربي بيروت 2012ء) (ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 248 ادارہ اسلامیات کراچی 2004ء) لیکن اس بات پر بہر حال اکثر متفق ہیں کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں اس کیلنڈر کا اجراء ہوا۔اسلامی سنگہ۔عام مؤرخین کے نزدیک عرب میں سب سے پہلے سکہ عبد الملک بن مروان نے جاری کیا۔مدینہ طیبہ کے بعض مؤرخین نے کہا ہے کہ سب سے پہلے اسلامی سنگے حضرت عمرؓ کے دور میں رائج ہوئے تھے۔ان کے اوپر الحمد للہ کندہ تھا اور بعض پر محمّد رسول الله اور بعض پر لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَةً بھی کندہ ہوتا تھا لیکن ساسانی، ایرانی بادشاہوں کی تصویروں سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ایک تحقیق کے مطابق سب سے پہلے اسلامی سگے دمشق میں سترہ ہجری میں حضرت عمر کے دورِ خلافت میں رائج ہوئے تھے مگر ان کے اوپر بھی باز نطینی شہنشاہ کی تصویر اور لاطینی میں ان کی لکھائی موجود ہوا کرتی تھی اور ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں اٹھائیس ہجری میں سب سے پہلے اپنا سکہ استعمال ہوا۔وقتی طور پر ساسانیوں کے علاقوں میں رائج سکوں کو ہی چلا یا گیا۔ان کے اوپر ساسانی بادشاہوں کی تصاویر ہوا کرتی تھیں مگر ان پر کوفی رسم الخط میں بسم اللہ لکھ دیا گیا۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 250 ادارہ اسلامیات کراچی 2004ء) (ماخوذ از جستجوئے مدینہ صفحہ 310 از عبد الحمید قادری۔اور مینٹل پبلی کیشنز پاکستان ) پھر یہ کہ حضرت عمرؓ نے کون کون سی باتیں شروع کیں ؟ کون سی اوّلیات ہیں جو اولیات فاروقی کہلاتی ہیں ؟ علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب الفاروق میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ہر ذریعہ میں جو جو نئی باتیں ایجاد کیں ان کو مؤرخین نے یکجا لکھا ہے اور ان کو اولیات کہا جاتا ہے اور وہ درج ذیل ہیں۔یعنی یہ شروع کروائیں: بیت المال یعنی خزانہ قائم کیا۔نمبر دو: عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے۔پھر تاریخ اور سن قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔نمبر چار: امیر المومنین کا لقب حضرت عمرؓ نے خلیفہ وقت کے لیے اختیار کیا۔نمبر پانچ: فوجی دفتر ترتیب دیا۔نمبر چھ : والنٹیئر ز کی تنخواہیں مقرر کیں۔نمبر سات: دفتر مال قائم کیا۔نمبر آٹھ : پیمائش جاری کیں۔نمبر نو: مردم شماری کروائی۔نمبر دس : نہریں کھدوائیں۔گیارہ: شہر آباد کرائے یعنی کوفہ ، بصرہ، جیزہ، فسطاط، موصل وغیرہ۔نمبر بارہ یہ ہے کہ ممالک مقبوضہ کو صوبوں میں تقسیم کیا۔نمبر تیرہ: عُشور یعنی دسواں حصہ بطور ٹیکس یا محصول مقرر کیا۔حشود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایجاد ہے جس کی ابتدایوں ہوئی کہ مسلمان جو غیر ملکوں