خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 406

خطبات مسرور جلد 19 406 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء تاریخ تقویم ہجری حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں قائم ہوئی۔سُبُلُ الْهُدَى وَالرَّشَادِ فِي سِيْرَةِ خَيْرِ الْعِبَاد کے مصنف محمد بن یوسف صالحی کہتے ہیں کہ ابن صلاح نے کہا ہے کہ انہوں نے ابوطاہر مخیش کی کتاب الشُّروط میں یہ لکھا ہوا دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ لکھنے کا ارشاد فرمایا تھا کیونکہ جب آپ نے نجران کے عیسائیوں کی طرف خط لکھنے کا ارشاد فرمایا تو حضرت علیؓ سے فرمایا اس میں لکھو لِخَمْسِ مِّنَ الْهِجْرَةِ۔یعنی ہجرت کے بعد پانچواں سال۔پس اس لحاظ سے پہلے مؤرخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حضرت عمرؓ نے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ہے۔دوسرے قول کے مطابق حضرت يعلى بن امیہ نے تاریخ کا آغاز کیا جو یمن کے رہنے والے تھے۔امام احمد نے اس کو بیان کیا ہے لیکن اس میں انقطاع ہے یعنی عمرو اور یعلیٰ کے درمیان میں۔تیسرے اور مشہور قول کے مطابق یہ ہے کہ تاریخ تقویم ہجری کا آغاز حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ہجری کیلنڈر کے لیے ہجرت سے کیوں آغاز کیا گیا؟ اس بارے میں یہ تفصیل ملتی ہے۔جب حضرت عمرؓ نے سال کی تعیین کے لیے مشورہ مانگا تو ایک رائے یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے اس کا آغاز کیا جائے۔دوسری رائے یہ تھی کہ آپ کے مبعوث ہونے کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔تیسری رائے یہ تھی کہ آپ کی وفات کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔چوتھی رائے یہ تھی کہ آپ کی ہجرت کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔ہجرت کے سال سے اس کا آغاز کرنا مناسب سمجھا گیا کیونکہ ولادت اور بعثت کے سال کی تعیین میں اختلاف تھا۔جہاں تک وفات کا تعلق ہے تو اس لیے منتخب نہیں کیا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے مسلمانوں کے رنج و الم کا عنصر اس میں شامل تھا۔پس صحابہ نے ہجرت پر اتفاق کیا۔صحابہ نے ربیع الاول کی بجائے محرم سے سال کا آغاز کیوں کیا ؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کا عزم محرم کے مہینہ میں ہی کر لیا تھا۔ذوالحجہ میں بیعت عقبہ ثانیہ ہو چکی تھی اور وہی ہجرت کا پیش خیمہ تھی۔اس طرح بیعت عقبہ ثانیہ اور ہجرت کا پختہ ارادہ کر لینے کے بعد جس مہینے کا چاند طلوع ہو اوہ محرم کا چاند تھا۔لہذ ا مناسب یہی سمجھا گیا کہ اسی کو نقطہ آغاز بنایا جائے۔علامہ ابن حجر کہتے ہیں اسلامی کیلنڈر کے محرم سے آغاز کی مناسبت سے میرے نزدیک یہ سب سے مضبوط دلیل ہے۔(فتح الباري لابن حجر جلد7 صفحه -314-315 کتاب مناقب الانصار باب التاريخ حديث 3934_دار الريان للتراث قاهره 1986ء) (سبل الهدى والرشاد جلد 12 صفحه 36-37ـ باب مبدأ التاريخ الاسلامى - دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کب تشریف لائے؟ اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔آپ مختلف جگہ ٹھہر تے ہوئے بارہ ربیع الاول 14 / نبوی مطابق 20 / ستمبر 622ء کو مدینہ کے پاس پہنچے۔بعض مورخین کے نزدیک 8 / ربیع الاول کی تاریخ تھی۔بعض کے نزدیک آپ ماہ صفر میں نکلے اور ربیع الاول میں پہنچے۔یکم ربیع الاول کو مکہ سے