خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 405

خطبات مسرور جلد 19 405 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء مدر سے قائم کیے جن میں قرآن مجید، حدیث، فقہ کی تعلیم دی جاتی۔کبار علماء صحابہ کو تعلیم و تربیت پر مامور کیا گیا اور پڑھانے والوں کی تنخواہیں بھی مقرر کی گئیں۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 233 ادارہ اسلامیات کراچی 2004ء) اسی طرح ہجری کیلنڈر کا آغاز کس طرح ہوا؟ اس بارے میں روایات میں آتا ہے۔ایک تو صحیح بخاری کی روایت ہے۔حضرت سہل بن سعد نے بیان کیا کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تاریخ کا شمار نہیں کیا اور نہ آپ کی وفات سے بلکہ آپ کے مدینہ میں آنے سے ہی انہوں نے تاریخ کا شمار کیا۔(صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب التاريخ من این ارخوا التاريخ حديث نمبر 3934) یعنی ہجرت کے وقت سے۔بخاری کے شارح علامہ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں امام سہیلی کے نزدیک صحابہ نے ہجرت سے تاریخ کا آغاز کرنے کا خیال اللہ تعالیٰ کے قول لَمَسْجِدٌ أَيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ سے لیا ہے۔پس مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ سے مراد وہ دن ہو گا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مدینہ میں داخل ہوئے۔واللہ اعلم۔ہجری کیلنڈر کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر کی طرف لکھا کہ آپ کی طرف سے ہمیں خطوط آتے ہیں ان پر تاریخ وغیرہ درج نہیں ہوتی۔اس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں کو مشورہ کے لیے اکٹھا کیا۔علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ بخاری نے کتاب الادب میں اور حاکم نے میمون بن مہران کے واسطے سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کی خدمت میں ایک چیک پیش کیا گیا جس کی میعاد شعبان تھی۔آپؐ نے فرمایا کون سا شعبان؟ کیا وہ جو گزر گیا یا وہ جس میں سے ہم گزر رہے ہیں یا وہ شعبان جو آئے گا۔آپ نے فرمایالوگوں کے لیے کوئی تاریخ متعین کرو جو سب کو معلوم رہے۔ابن سیرین کہتے ہیں کہ ایک شخص یمن سے آیا اور اس نے کہا میں نے یمن میں ایک چیز دیکھی جسے وہ تاریخ کہتے ہیں۔وہ اسے یوں لکھتے ہیں کہ فلاں سال اور فلاں مہینہ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ عمدہ طریق ہے۔تم بھی تاریخ لکھو۔ہجری تقویم کا آغاز، اس کیلنڈر کا آغاز کس نے کیا؟ اس بارے میں متفرق آراء ہیں۔پہلے قول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ مرتب کرنے کا ارشاد فرمایا اور ربیع الاول میں تاریخ لکھی گئی۔چنانچہ حاکم نے اپنی کتاب الاکلیل میں ابن شہاب زہری سے روایت کی ہے کہ: انَّ النَّبِيَّ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَ بِالتَّارِيخِ فَكَتِبَ فِي رَبِيعِ الْأَوَّلِ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے تاریخ لکھنے کا ارشاد فرمایا۔پس وہ ربیع الاول میں لکھی گئی۔علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ روایت مُفضّل ہے۔مُغضّل سے مراد وہ روایت ہوتی ہے جس کی سند میں پے در پے دو یا زیادہ راوی ساکت ہوں۔ایک اور روایت میں ہے کہ تاریخ کی ابتدا اس دن سے ہوئی جس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے اور مشہور بات اس کے بر عکس ہے اور وہ یہ کہ