خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 404

خطبات مسرور جلد 19 404 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء اسی طرح مارکیٹ کنٹرول، پرائس کنٹرول کے لحاظ سے جو ناجائز حد تک قیمت گرانا ہے اس سے بھی اسلام نے منع فرمایا ہے اور حضرت عمر نے اس کی پابندی کروائی۔مال کی قیمت گرانے کی ممانعت کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " اسلام نے قیمت کو ناجائز حد تک گرانے سے بھی منع کیا ہے۔قیمت کا گرانا بھی ناجائز مال کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ طاقتور تاجر اس ذریعہ سے کمزور تاجروں کو تھوڑی قیمت پر مال فروخت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ان کا دیوالہ نکلوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آپ بازار کا دورہ کر رہے تھے کہ ایک باہر سے آئے ہوئے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ خشک انگور نہایت ارزاں قیمت پر فروخت کر رہا تھا جس قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے اسے حکم دیا کہ یا تو اپنالال منڈی سے اٹھا کر لے جائے یا پھر اسی قیمت پر فروخت کرو جس مناسب قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت کر رہے تھے۔" مدینہ کے جو تاجر تھے وہ مال کی زیادہ قیمت نہیں لے رہے تھے بلکہ مناسب قیمت تھی۔آپ نے کہا اسی قیمت پر فروخت کرو۔" جب آپ سے اس حکم کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے جواب دیا کہ اگر اس طرح فروخت کرنے کی اسے اجازت دی گئی تو مدینہ کے تاجروں کو جو مناسب قیمت پر مال فروخت کر رہے ہیں نقصان پہنچے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ کے اس فعل کے خلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیش کیا کہ منڈی کے بھاؤ میں دخل نہیں دینا چاہئے۔مگر ان کا یہ اعتراض درست نہ تھا کیونکہ منڈی کے بھاؤ میں دخل دینے کے یہ معنی ہیں کہ پیداوار اور مانگ (SUPPLY AND DEMAND) کے اصول میں دخل دیا جائے۔" یعنی سپلائی اور ڈیمانڈ کے جو اصول ہیں ان میں دخل دینا ہے " اور ایسا کرنا بیشک نقصان دہ ہے اور اس سے حکومت کو بچنا چاہئے۔" مارکیٹ خود اپنے آپ کو سپلائی ڈیمانڈ سے ایڈ جسٹ کرتی ہے اور نہ عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا اور تاجر تباہ ہو جائیں گے۔" اسلام کا اقتصادی نظام۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 53) اس کی اجازت نہ دی جائے لیکن قیمت کنٹر ول جو ہے وہ جائز ہے۔حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفصیل ایک اور جگہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ "شہری حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ لین دین کے معاملات میں خرابی نہ ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اس حق کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ اسلام نے بھاؤ کو بڑھانے اور مہنگا سودا کرنے سے روکا ہے۔اسی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے اور ان کو تجارت میں فیل کرنے کے لیے بھاؤ کو گرا دینے سے بھی منع فرمایا ہے۔مقابلے میں کم قیمت کرنا بھی منع ہے۔" ایک دفعہ مدینہ میں ایک شخص ایسے ریٹ پر انگور بیچ رہا تھا جس ریٹ پر دوسرے دکاندار نہیں بیچ سکتے تھے۔حضرت عمرؓ پاس سے گزرے تو انہوں نے اس شخص کو ڈانٹا کیونکہ اس طرح باقی دکانداروں کو نقصان پہنچتا تھا۔غرض اسلام نے سودا مہنگا کرنے سے بھی روک دیا اور بھاؤ کو گرا دینے سے بھی روک دیا تا کہ نہ دکانداروں کو نقصان ہو اور نہ پبلک کو نقصان ہو۔" (تفسیر کبیر جلد 10 صفحه 307) تعلیم کے نظام کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے تعلیم کو نہایت ترقی دی۔تمام ممالک میں