خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 403

خطبات مسرور جلد 19 403 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء قلعہ کی دیواروں میں سوراخ کر کے اس کی دیوار میں گرائی جاتیں۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحہ 216 تا 218 ادارہ اسلامیات کراچی 2004 ء (سیر الصحابہ جلد 1 صفحہ 126 127 از معین الدین ندوی دار الاشاعت کراچی پاکستان 2004ء ) (لسان العرب زیر مادہ دب) اسلامی حکومت کے ماتحت غیر اقوام کے لوگ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔یہ نہیں کہ صرف مسلمانوں کو اعلیٰ عہدے دیے جاتے تھے بلکہ غیر مسلموں کو بھی اور غیر قوموں کے لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدے دیے جاتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے زمانے میں بھی حالانکہ ابھی ملک میں پر امن طور پر ساری قومیں نہیں بسی تھیں ان حقوق کو تسلیم کیا جاتا تھا۔چنانچہ علامہ شبلی اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے صیغہ جنگ کو جو وسعت دی تھی اس کے لیے کسی قوم اور کسی ملک کی تخصیص نہ تھی یہاں تک کہ مذہب وملت کی بھی کچھ قید نہ تھی۔والنٹیئر فوج میں تو ہزاروں مجوسی شامل تھے یعنی ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے، آتش پرست تھے، سورج پرست تھے وہ بھی شامل تھے جن کو مسلمانوں کے برابر مشاہرے ملتے تھے۔فوجی نظام میں بھی مجوسیوں کا پتہ ملتا ہے۔اسی طرح لکھتے ہیں کہ یونانی اور رومی بہادر بھی فوج میں شامل تھے۔چنانچہ فتح مصر میں ان میں سے پانچ سو آدمی شریک جنگ تھے اور آج پاکستان میں یہ کہتے ہیں کہ جی احمدیوں کو فوج سے نکالو۔یہ بڑی نازک، sensitive پوسٹیں ہیں۔حالانکہ اگر تاریخ پڑھیں تو پاکستان کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں احمدی افسروں نے دی ہیں۔بہر حال یہ تو ان کے اپنے فعل ہیں۔حضرت عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب عمرو بن عاص نے فسطاط آباد کیا تو یہ جدا گانہ محلے میں آباد کیے گئے۔یہودیوں سے بھی یہ سلسلہ خالی نہ تھا۔چنانچہ مصر کی فتح میں ان میں سے ایک ہزار آدمی اسلامی فوج میں شریک تھے۔اسی طرح تاریخ سے ثابت ہے کہ غیر اقوام کے افراد کو جنگی افسر بھی مقرر کیا جاتا تھا۔چنانچہ حضرت عمر کے زمانے میں ایرانیوں کو بھی فوجی افسر مقرر کیا گیا۔ان میں سے بعض کے نام بھی تاریخ میں موجود ہیں۔علامہ شبلی نے چھ افسروں کے نام یہ لکھے ہیں۔سیاہ، خسرو، شہریار ، شیر ویہ، شہر ویہ، آفرودین۔ان افسروں کو تنخواہیں بھی سرکاری خزانے سے ملتی تھیں اور با قاعدہ پے رول (payroll) میں ان کا نام تھا۔چاروں خلفاء کے بعد حضرت معاویہ کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے کہ ان کے زمانے میں ایک عیسائی ابن آثال نامی وزیر خزانہ تھا۔یہ وضاحت میں لکھتے ہیں کہ تفسیر کبیر میں جو میں نے پڑھا ہے تو حضرت مصلح موعودؓ نے علامہ شبلی کے حوالے سے افرودین لکھا ہے اور ایسے ہی الفاروق میں بھی درج ہے لیکن عربی کتب میں اس کا نام افروزین لکھا ہے۔یعنی بجائے دال کے ذال کے ساتھ۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 534) (تاریخ الطبری جلد 2 صفحه 504 سنه 17ه دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) بہر حال یہ نام کا ذال اور دال کا ذرا سا فرق ہے کیونکہ لوگ اس پہ بحث شروع کر دیتے ہیں اس لیے وضاحت کر دی ہے۔