خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 26

خطبات مسرور جلد 19 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء مکان بھی تعمیر کر لیا اور دکان بھی دوبارہ سے قائم کر لی اور اب ان کا کام پہلے سے بہت بڑھ کر ترقی کر رہا ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ چندے کی برکات سے ہوا ہے۔آسٹریلیا جماعت کی ایک لجنہ ممبر ہیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ جب ہم نئے گھر میں شفٹ ہوئے تو ہمارے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔گھر کا کرایہ بھی زیادہ تھا۔میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ ضروری سامان خرید سکوں اور دوسری طرف چندے کا سال بھی ختم ہو رہا تھا۔میں نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے چندہ ادا کر دیا اور دعا کی کہ اے اللہ کسی کی محتاجی نہ ہو خود میری ضروریات پوری کر دے۔یہ دنیادار ملک میں رہنے والی خاتون ہے۔یہ نہیں ہے کہ کوئی غریب ملک میں تھیں۔کہتی ہیں اسی دن شام کو میرے شوہر آئے اور مجھے لا کر کچھ پیسے دیے اور کہنے لگے کہ مجھے آج میرے افسر سے یہ بونس ملا ہے اور سارے ملازمین میں سے یہ صرف مجھے ہی ملا ہے اور کسی کو نہیں ملا، جو میرے چندے کی رقم سے دو گنی رقم تھی۔یہ کہتی ہیں اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل اور احسان تھا کہ میں حیران رہ گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاطر کی گئی قربانی کرنے والے کو کبھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔انڈیا، بھارت سے قمر الدین صاحب، یہ انسپکٹر ہیں لکھتے ہیں کہ مالی سال کے اختتام پر ناظم وقف جدید کے ہمراہ دورے پہ جماعت کالی کٹ پہنچا۔اس دوران ایک احمدی حنیف صاحب کے گھر بھی گئے۔انہوں نے آٹھ سال قبل بیعت کی تھی اور معمولی مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ان کے گھر پہنچے تو ان کا دس سال کا بیٹا مدلاج علی اپنے بنگی اور گولک لے کر آیا اور وقف جدید میں جمع کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ چندہ اس نے وقف جدید کے لیے سال بھر اکٹھا کیا ہے۔جب بگی کو کھولا گیا تو اس میں بڑی رقم تھی۔ناظم صاحب نے اس بچے سے دریافت کیا کہ عموماً بچے پیسے اپنی پسند کی چیزیں خریدنے کے لیے جمع کرتے ہیں یہ تم چندہ وقف جدید میں کیوں دے رہے ہو ؟ اس پر اس بچے نے جواب دیا جس کا مفہوم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے کرام تو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہیں اس لیے یہ رقم چندہ وقف جدید میں دے رہا ہوں۔یہ ہے احمدی بچوں کی تربیت۔جس جماعت کے بچوں کی یہ سوچ ہو اور اس طرح تربیت ہو اس کو یہ مخالفین احمدیت کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ مخالفین چاہے جتنا بھی زور لگا لیں لیکن یہ جماعت خدا تعالیٰ نے اپنے دین کو دنیا میں پھیلانے کے لیے قائم فرمائی ہے۔اس لیے ہر موقع پر خدا تعالیٰ ہی سنبھالتا ہے اور مدد فرماتا ہے اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کے دل میں اس کی محبت اور اس کے مقاصد کی تکمیل کی تڑپ پیدا کر تا چلا جاتا ہے۔تنزانیہ کے امیر صاحب لکھتے ہیں ہمسایہ ملک ملاوی (Malawi) کی منگوچی (Manguchi) جماعت ، معلم لکھتے ہیں کہ ایک دوست ابراہیم صاحب گوشت کا کاروبار کرتے ہیں۔انہوں نے اس سال چندہ وقف جدید کے لیے پانچ ہزار آٹھ سو ملاوین گواچا(Kwacha) وعدہ کیا۔دوران سال تھوڑا تھوڑا ادا کرتے رہے۔دسمبر تک کچھ حصہ ادا کرنا باقی تھا لیکن ملکی حالات کی وجہ سے کاروبار بند ہو گیا۔انہوں نے ادھار لے کر وعدہ مکمل کر دیا۔ایک ہفتے کے بعد انہوں نے کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک بکری خریدی تاکہ اس کا گوشت پہنچ سکیں اور چند دنوں میں ہی اتنی برکت پڑی کہ ان کا تمام قرض ادا ہو گیا۔تو غریب لوگ بھی جس تو کل اور قربانی کے جذبے سے چندہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ