خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 25
خطبات مسرور جلد 19 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء بڑھا کر انتظام فرما دیا۔چھ لاکھ کو چھ ملین کر دیا۔ایڈوانس ملتے ہی سب سے پہلے میں نے وقف جدید کا وعدہ پورا کیا۔زنجبار کے ایک نو مبائع دوست جمعہ صاحب ہیں۔سبزی منڈی میں مزدوری کا کام کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جب وقف جدید کے وعدے کی ادائیگی کے حوالے سے تحریک کی گئی تو ان دنوں سامان لانے والی گاڑیوں کی آمد ورفت بند ہو گئی تھی۔سامان کی گاڑیوں پر لوڈنگ ان لوڈنگ کرتے ہیں۔مالی حالات تنگ تھے۔جس طرح میں نے کہا تھا ناں اب یہ مزدور آدمی ہے، غریب آدمی ہے یہ دعا نہیں کر رہا کہ میری ضروریات پوری ہو جائیں، میرا پیٹ بھرنے کے سامان ہو جائیں بلکہ کہتے ہیں میں نے کچھ دن تہجد میں اللہ تعالیٰ سے چندوں کی ادائیگی کے لیے خاص دعا کی۔تہجد میں اٹھ کے دعا کی تو صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں مالی قربانی میں پیچھے نہ رہوں۔چنانچہ وقف جدید کا سال ختم ہونے سے صرف تین دن پہلے یہ سلسلہ کاروبار جو کہ بند ہو ا ہوا تھا دوبارہ شروع ہو گیا اور انہیں تقریباً تین لاکھ شلنگ کی آمد ہوئی جس سے کہتے ہیں مجھے اپنا اور اپنے بچوں کا چندہ ادا کرنے کی توفیق ملی۔یہ ذکر نہیں کہ گزارہ کرنے کے لیے ہمیں رقم مل گئی بلکہ یہ کہ میرا اور میرے بچوں کا چندہ ادا ہو گیا۔کہتے ہیں جب سے میں نے بیعت کی ہے چندہ جات کی ادائیگی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے میرے مال میں خاطر خواہ برکت عطا فرمائی ہے۔یہ ہیں وہ لوگ جن کو فکر ہے تو چندوں کی ادائیگی کی اور تہجد میں جیسا کہ میں نے کہا خاص طور پر رو رو کر دعا کر رہے ہیں تو یہ کہ خدا تعالیٰ چندہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک دنیادار انسان یہ باتیں سن کر کہہ سکتا ہے یہ توپاگل پن ہے لیکن دنیادار کی نظر میں یہی جو بیوقوف لوگ ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے اور پھر ان کی ضرورتیں خود ہی پوری کرتا ہے۔رپورٹس میں عجیب عجیب واقعات ملتے رہتے ہیں۔گیمبیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں : نارتھ بنگ ریجن کے ایک گاؤں کے دکاندار ابراہیم صاحب بڑے کامیاب تاجر تھے اور لوگ اپنی امانتیں وغیرہ ان کے پاس رکھوایا کرتے تھے اور اس وقت یہ غیر احمدی تھے۔بعض وجوہات کی بنا پر اچانک دیوالیہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے لوگوں کی امانتوں میں سے بھی خرچ کر لیا۔جب انہیں خطرہ ہوا کہ وہ امانتیں بھی واپس نہیں کر پائیں گے تو اپنے آبائی ملک گنی کنا کری چلے گئے۔ملک چھوڑ کے دوڑ گئے اور تین سال تک گنی کنا کر ی رہے۔پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں واپس جانا چاہیے۔دل میں نیکی تھی تو یہی فیصلہ کیا کہ واپس جا کے حالات کا مقابلہ کر لیں گے اور لوگوں کے قرضے کسی نہ کسی طرح واپس کرنے چاہئیں چنانچہ انہوں نے گاؤں کے چیف اور ڈسٹرکٹ چیف کو فون کیا اور ایک موقع دینے کی منت سماجت کی کہ مجھے موقع دو، مجھے واپس آنے دو۔گر فتار نہ کرنا تو میں کوشش کروں گا کہ میں سارے قرضے ادا کر دوں۔چنانچہ چیف نے اس شرط پر واپس آنے کی اجازت دی کہ وہ محنت کر کے کمائیں گے اور لوگوں کی امانتیں واپس کریں گے۔اگر ایسانہ کر سکے تو جیل بھیج دیا جائے گا۔کہتے ہیں انہیں آئے ہوئے ابھی چار ماہ کا عرصہ ہوا تھا کہ ان تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا جسے سن کر انہوں نے احمدیت قبول کر لی اور باقاعدگی سے چندہ ادا کر ناشروع کر دیا۔مالی تحریکات میں بھی حصہ لینے لگے۔جو آمد ہوتی تھی اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے چندے کی ادائیگی سے ان کے کام میں اتنی برکت پڑی کہ دو سال کے عرصہ میں انہوں نے نہ صرف اپنے تمام قرض ادا کر دیے جو کہ دولاکھ ڈلاسی(Dalasi) تھے بلکہ اپنا