خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد 19 ماہر اور منفر دتھے۔402 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء (ماخوذ از سیرت امیر المومنين عمر بن خطاب از الصلابی صفحه214 تا 217 و 221 دارالمعرفه بيروت 2007ء) اسی طرح محکمہ فوج ہے۔اس کا قیام آپؐ نے کیا۔حضرت عمرؓ نے باقاعدہ فوج کی ترتیب کی اور تنظیم سازی کی۔مراتب کے لحاظ سے فوج کے رجسٹر بنوائے اور ان کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔حضرت عمرؓ نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک جو باقاعدہ جنگ میں شامل ہوتے اور دوسرے والنٹیئر جو ضرورت کے وقت بلائے جاتے تھے۔حضرت عمرؓ کو فوج کی تربیت کا بہت خیال تھا۔انہوں نے نہایت تاکیدی احکام جاری کیسے تھے کہ ممالک مفتوحہ میں کوئی شخص زراعت یا تجارت کا شغل اختیار نہ کرنے پائے۔جو علاقے فتح ہوں گے وہاں جاکے کوئی شخص تجارت یا زراعت نہیں کرے گا کیونکہ یہ فوجی تھے تو یہ فوجیوں کے بارے میں تھا کیونکہ اس سے ان کے سپاہیانہ جوہر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔آج کل ہم مسلمان ملکوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ فوجی تجارتوں میں مصروف ہیں بلکہ ایک ملک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلے تو فوجی اپنی پیشہ وارانہ مہارت کی طرف دیکھتے تھے لیکن اب کمیشن ملتے ہی جو افسر ہوتا ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ کہاں کوئی نئی کالونی بن رہی ہے۔کون سی ڈیفنس کالونی بن رہی ہے جہاں مجھے پلاٹ ملے اور میں پلاٹ الاٹ کر اؤں۔اور اسی وجہ سے بہر حال پھر ان کی سپاہیانہ صلاحیتیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔پھر آتا ہے کہ سرد اور گرم ممالک پر حملہ کرتے وقت موسم کا بھی خیال رکھا جاتا تھا تا کہ فوج کی صحت اور تندرستی کو نقصان نہ پہنچے۔فوج کے متعلق حضرت عمر نے سختی سے یہ ہدایات دی تھیں کہ ساری فوج تیراکی ، گھوڑ سواری، تیر چلانا اور ننگے پاؤں چلنا سیکھے۔ہر چار مہینے کے بعد سپاہیوں کو وطن جا کر اپنے اہل و عیال سے ملنے کے لیے رخصت دی جاتی تھی۔جفاکشی کے خیال سے یہ حکم تھا کہ اہل فوج رکاب کے سہارے سے سوار نہ ہوں۔گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے رکاب میں پاؤں ڈال کے نہیں سوار ہونا بلکہ چھلانگ مار کے سوار ہونا ہے۔نرم کپڑے نہ پہنیں۔دھوپ سے بچیں اور حماموں میں نہ نہائیں۔وہاں زیادہ آرام طلبی کی عادت پڑ جاتی ہے۔حضرت عمر بہار کے موسم میں فوج کو سرسبز و شاداب علاقوں میں بھیج دیتے تھے۔فوجی بیر کس اور چھاؤنیوں کے بناتے وقت آب و ہوا کو مد نظر رکھا جاتا۔یہ بھی ضروری تھا کہ سر سبز علاقوں میں فوجوں کو بھیجا جائے تاکہ وہاں تازہ فضا سے ان کی صحت بھی اچھی رہے۔آب و ہوا کو مد نظر رکھا جاتا تھا۔تمام اضلاع میں فوجی چھاؤنیاں بنوائیں۔فوجی صدر مقامات میں مدینہ کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، دمشق، حمص، اردن، فلسطین شامل کیے جہاں ہمیشہ فوج تعینات رہتی تھی۔ہر چار ماہ کے بعد فوجیوں کو چھٹی دی جاتی تھی۔فوجی مرکز میں بیک وقت چار ہزار گھوڑے ہوتے تھے جن کی دیکھ بھال کی جاتی۔گھوڑوں کی رانوں پر جنش فنی سَبِیلِ الله داغ کر لکھا جاتا تھا یعنی اللہ کی راہ میں لشکر۔حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی فوج نے آلات جنگ میں ترقی کی۔نئے ساز و سامان مرتب کیے جن میں قلعہ شکن ہتھیار مَنْجَنِيْق اور دَبَّابہ وغیرہ شامل تھے۔دبّابہ سے مراد وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ سے دشمن کے قلعوں کو توڑا اور منہدم کیا جاتا ہے۔اس کے اندر آدمی بیٹھتے اور