خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 401
خطبات مسرور جلد 19 401 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء زراعت میں بہتری اور عوام کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے نہریں کھدوائیں: 1۔نہر ابو موسیٰ: دریائے دجلہ سے نو میل لمبی نہر بنا کر بصرہ تک لائی گئی۔2۔نہر منتقل: یہ نہر بھی دریائے دجلہ سے نکالی گئی تھی۔3۔نہر امیر المومنین : حضرت عمرؓ کے حکم سے دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملایا گیا۔اٹھارہ ہجری میں جب قحط پھیلا تو حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاص کو امداد کے لیے خط لکھا۔فاصلہ چونکہ زیادہ تھا اس لیے امداد میں تاخیر ہو گئی۔حضرت عمر نے عمرو کو بلا کر کہا کہ دریائے نیل کو سمندر سے ملادیا جائے تو عرب میں کبھی قحط نہ ہو۔عمر و نے جو وہاں کے گورنر تھے واپس جا کر فسطاط سے بحیرہ قلزم تک نہر تیار کروائی جس کے ذریعہ بحری جہاز مدینہ کی بندر گاہ جدہ تک پہنچ جاتے۔یہ نہر انیس میل لمبی تھی اور چھ ماہ کے عرصہ میں تیار کرلی گئی۔حضرت عمرو بن عاص نے بحیرہ روم اور بحیرہ قلزم کو آپس میں ملانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ فر ما کے پاس سے جہاں بحر قلزم اور بحر روم میں ستر میل کا فاصلہ تھا نہر نکال کر ان کو ملا دیا جائے۔فرما مصر کے نواح میں ایک ساحلی شہر تھا۔لیکن حضرت عمر یونانیوں کے ہاتھوں حاجیوں کے لوٹے جانے کے ڈر سے اس پر رضامند نہ ہوئے۔اگر عمر و بن عاص کو اجازت مل جاتی تو نہر سویز کی ایجاد عربوں کے حصہ میں آتی جو بعد میں بنائی گئی تھی۔مختلف تعمیرات۔حضرت عمرؓ نے عوام الناس کی سہولت کے لیے مختلف عمارتیں تعمیر کروائیں۔ان میں مساجد، عدالتیں، فوجی چھاؤنیاں، بیر کس ، ملکی تعمیراتی کاموں کے لیے مختلف دفاتر، سڑکیں، پل، مہمان خانے، چوکیاں، سرائیں وغیرہ۔مدینہ سے مکہ تک ہر منزل پر چشمے اور سرائیں بنوائیں، چوکیاں بھی تعمیر کروائیں۔(ماخوذ از الفاروق از شیلی نعمانی صفحه 206 تا210 ادارہ اسلامیات کراچی 2004 ء یعنی سیکیورٹی کا بھی انتظام رہے اور لوگوں کی رہائش کے لیے، آرام کرنے کے لیے ہوٹل وغیرہ بھی، سرائے بھی میسر آجائیں۔شہروں کی آباد کاری کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں متعد د نئے شہر آباد فرمائے۔آپ نے ان کو آباد کرتے وقت دفاعی، معاشی اور اقتصادی فوائد کو مد نظر رکھا۔ان شہروں کے محل وقوع کا انتظام حضرت عمرہ کی جنگی بصیرت، سیاست اور آباد کاری کے اصولوں پر، دقیق نظر پر دلالت کرتا ہے۔یہ شہر حالتِ جنگ اور حالتِ امن دونوں میں فائدہ مند تھے۔حضرت عمرؓ کی کوشش ہوتی کہ عرب کی جو سرحد عجم سے ملی ہوئی ہے وہاں شہر آباد ہوں تا کہ اچانک حملے سے بچا جا سکے۔ان شہروں کا محل وقوع اس طرح ہو تا جو عربوں کو موافق ہو تا۔ان شہروں کے ایک طرف عرب کی سرزمین ہوتی جو چراگاہ کا کام دیتی اور دوسری طرف عجمی سرزمین کے سر سبز علاقے ہوتے جہاں سے پھل غلہ اور دوسری اشیاء میسر ہو تیں یعنی زراعت دوسری طرف کی جاتی تھی۔شہروں کی آبادکاری میں یہ بھی مد نظر رکھا گیا کہ ان کے درمیان کوئی دریا یا سمند ر حائل نہ ہو۔حضرت عمرؓ نے بصرہ، کوفہ ،فسطاط وغیرہ شہر آباد فرمائے۔حضرت عمر نے مستحکم اور صحیح بنیادوں پر ان شہروں کی آبادکاری کی۔ان کی سڑکوں اور راستوں کو وسیع رکھا۔بڑی کھلی سڑکیں تھیں اور نہایت بہترین انداز میں منظم کیا اور یہ طرز فکر ثابت کرتی ہے کہ آپ اس علم میں