خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 400

خطبات مسرور جلد 19 400 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء اور اونٹ کے رنگ اور ان کی عمریں لکھتے تھے۔حضرت علی نے حضرت عثمان سے کہا کہ کتاب اللہ میں تم نے حضرت شعیب کی بیٹی کا یہ قول سنا ہے؟ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْآمین۔(القصص:27) یقیناً جنہیں بھی تُو نو کر رکھے ان میں بہترین وہی ثابت ہو گا جو مضبوط اور امانت دار ہو۔پھر حضرت علی نے حضرت عمر کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ وہی الْقَوِيُّ الْآمِينُ ہے۔(اسدالغابة فى معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 667 عمر بن الخطاب مطبوعه دارالفکر بيروت لبنان 2003ء) (عمدة القاری شرح صحيح البخارى جلد 16 صفحه 279 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت) حضرت مصلح موعود اس بارے میں واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک واقعہ ہے۔حضرت عثمان بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں ایک دفعہ باہر قتہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اتنی شدید گرمی پڑ رہی تھی کہ دروازہ کھولنے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اتنے میں میرے غلام نے مجھے کہا دیکھئے اس شدید دھوپ میں باہر ایک شخص پھر رہا ہے۔میں نے پر وہ ہٹا کر دیکھا تو مجھے ایک شخص نظر آیا جس کا منہ شدت گرمی کی وجہ سے جھلسا ہوا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ کوئی مسافر ہو گا مگر تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ شخص میرے بہ کے قریب پہنچا اور میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمر ہیں۔ان کو دیکھتے ہی میں گھبر اکر باہر نکل آیا اور میں نے کہا: اس گرمی میں آپ کہاں ؟ حضرت عمرؓ فرمانے لگے: بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا جس کی تلاش میں میں باہر پھر رہا ہوں۔" ( تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 314-315) اونٹ کے گنے کا یہ بھی ایک واقعہ آتا ہے۔پہلے بھی ایک دفعہ بیان ہو چکا ہے۔حضرت عمرؓ ایک دفعہ بیت المال کا مال تقسیم کر رہے تھے کہ ان کی ایک بیٹی آگئی اور اس نے اس مال میں سے ایک درہم اٹھالیا۔حضرت عمر سے لینے کے لیے اٹھے۔آپ کے ایک کندھے سے چادر ڈھلک گئی اور وہ بچی اپنے گھر والوں کے پاس روتی ہوئی بھاگ گئی اور وہ در ہم اس نے اپنے منہ میں ڈال لیا۔حضرت عمر نے انگلی ڈال کر اس کے منہ سے وہ در ہم نکالا اور اس کو مال میں لا کر رکھ دیا اور کہا اے لوگو ! عمر اور اس کی آل کے لیے خواہ وہ قریبی ہو یا دور کا ان کا اتنا ہی حق ہے جتنا عام مسلمانوں کا ہے۔اس سے زیادہ کا نہیں۔ایک اور روایت ہے۔حضرت ابو موسیٰ نے ایک دفعہ بیت المال میں جھاڑو دیا تو ان کو ایک درہم ملا۔حضرت عمر کا ایک چھوٹا بچہ گزر رہا تھا تو انہوں نے وہ اس کو دے دیا۔حضرت عمرؓ نے وہ در ہم اس بچے کے ہاتھ میں دیکھ لیا تو آپ نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کہا کہ یہ مجھے ابو موسیٰ نے دیا ہے تو یہ معلوم کر لینے کے بعد کہ درہم بیت المال کا ہے ، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے ابو موسیٰ ! کیا اہل مدینہ میں سے آلِ عمر کے گھر سے زیادہ حقیر تر تیرے نزدیک کوئی گھر نہیں تھا۔تو نے یہ چاہا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی باقی نہ رہے مگر وہ ہم سے اس ظلم کا مطالبہ کرے۔پھر آپ نے وہ در ہم بیت المال میں لوٹا دیا۔(ماخوذ از ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء مترجم اشتیاق احمد صاحب جلد 3 صفحہ 286 قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی) رفاہ عامہ کے کام کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے عوام الناس کی بھلائی اور بہتری کے لیے بہت سے کام سر انجام فرمائے جو درج ذیل ہیں۔