خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 399
خطبات مسرور جلد 19 399 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء کیے گئے۔حضرت عمر عمارتوں کی تعمیر میں کفایت شعاری سے کام لیتے تھے مگر بیت المال کے لیے نہایت مستحکم اور شاندار عمارتیں بنوایا کرتے تھے۔بعد میں ان پر پہرے دار بھی مقرر کیے گئے تھے۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 203 تا 205 ادارہ اسلامیات کراچی 2004ء) اس کے لیے سیکیورٹی کا پورا نظام تھا۔بیت المال کے مال کے متعلق حضرت عمر خود حفاظت فرماتے تھے۔ایک واقعہ تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان کے ایک آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ ایک روز شدید گرمی تھی۔میں حضرت عثمان کے ہمراہ عالیہ مقام میں ان کے مال مویشیوں کے پاس تھا۔مدینہ سے مسجد کی جانب چار سے آٹھ میل کے درمیان کی وادی ہے اسے 'عالیہ کہتے ہیں۔آپ نے ایک آدمی کو دیکھا جو دو نوجوان اونٹ ہانک کر لے جارہا تھا یعنی حضرت عثمان نے دیکھا کہ ایک آدمی آ رہا ہے اور جو ان اونٹ اس کے آگے آگے چل رہے ہیں اور زمین شدید گرم تھی۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا اس شخص کو کیا ہوا ہے ! اگر یہ مدینہ میں رہتا اور موسم ٹھنڈا ہونے کے بعد نکلتا تو اس کے لیے بہتر ہو تا۔جب وہ شخص قریب آیا تو حضرت عثمان کے ملازم کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ کون ہے ؟ میں نے کہا چادر میں لپٹا ہوا ایک شخص ہے جو دو نو جوان اونٹ ہانک رہا ہے۔پھر وہ شخص اور قریب ہوا تو حضرت عثمان نے پھر فرمایا کہ دیکھو کون ہے ؟ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب تھے۔میں نے عرض کی کہ یہ تو امیر المومنین ہیں۔حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور دروازے میں سے سر باہر نکالا لیکن گرم ہوا کی لپٹ پڑی تو آپ نے سر اندر کر لیا اور پھر فوراًہی دوبارہ حضرت عمر کی طرف منہ کر کے عرض کیا۔آپ کو کس مجبوری نے اس وقت گھر سے نکالا ہے ؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا صدقے کے اونٹوں میں سے یہ دو اونٹ پیچھے رہ گئے تھے ان کے علاوہ باقی سارے اونٹ ہانک کر لے جائے جاچکے تھے تو میں نے چاہا کہ ان کو چراگاہ میں لے جاؤں۔مجھے ڈر تھا کہ یہ دونوں کھو جائیں گے۔پھر اللہ مجھ سے ان کے بارے پوچھے گا۔حضرت عثمان نے کہا اے امیر المومنین! آپ سائے میں آئیں اور پانی پیئیں۔ہم آپ کے لیے کافی ہیں۔ہم خدمت کر لیتے ہیں۔ہم بھیجنے کا انتظام کر دیتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنے سائے میں کوٹ جاؤ، تم جاؤ سائے میں بیٹھو۔حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ہمارے پاس وہ ہے جو آپ کے لیے کافی ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنے سائے کی طرف لوٹ جاؤ۔پھر حضرت عمر چلے گئے۔حضرت عثمان نے کہا جو چاہتا ہے کہ وہ الْقَوِيُّ الآمین یعنی قوی اور امانت دار کو دیکھے تو اس شخص کو دیکھ لے۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ عمر بن نافع نے ابو بکر عیسی سے روایت کر کے بیان کیا۔وہ کہتے تھے میں حضرت عمر بن خطاب ، حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ صدقے کے وقت آیا۔حضرت عثمان سائے میں بیٹھ گئے اور حضرت علی اُن کے پاس کھڑے ہو کر وہ باتیں ان سے کہتے جاتے جو حضرت عمر کہتے تھے اور حضرت عمر باوجو د سخت گرمی کے دن ہونے کے دھوپ میں کھڑے تھے اور آپ کے پاس دو سیاہ چادریں تھیں۔ایک کی تہبند باندھ لی تھی اور ایک سر پر ڈال لی تھی اور صدقے کے اونٹوں کا معائنہ کر رہے تھے