خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 398

خطبات مسرور جلد 19 398 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء حضرت علی تھے۔حضرت عثمان، حضرت معاذ بن جبل ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو درداء تھے۔ان لوگوں کے سوا اگر کوئی اور فتوی دیتا تو حضرت عمرؓ ا سے منع کر دیتے تھے۔حضرت عمران مفتیان کی بھی وقتافوقتا جانچ کرتے رہتے تھے۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 202 ادارہ اسلامیات کراچی 2004ء) حضرت مصلح موعود اس بارے میں فرماتے ہیں: ایک صیغہ فتوی کا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد زمانہ خلفاء میں قاعدہ تھا کہ شرعی امور میں فتوی دینے کی ہر شخص کو اجازت نہ تھی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اتنی احتیاط کرتے تھے کہ ایک صحابی، غالباً عبد اللہ بن مسعودؓ تھے ، جو دینی علوم میں بڑے ماہر بھی تھے اور ایک جلیل القدر انسان تھے انہوں نے ایک دفعہ کوئی مسئلہ لوگوں کو بتایا اور اس کی اطلاع آپ کو پہنچی یعنی حضرت عمرؓ کو جب اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے فوراً ان سے جواب طلب کیا کہ کیا تم امیر ہو یا امیر نے تم کو مقرر کیا ہے کہ فتوی دیتے ہو ؟ دراصل اگر ہر ایک شخص کو فتوی دینے کا حق ہو تو بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور عوام کے لیے بہت سے فتاوی ابتلا کا موجب بن سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات ایک ہی امر کے متعلق دو مختلف فتوے ہوتے ہیں اور دونوں صحیح ہوتے ہیں۔یعنی کہ صورتِ حال کے مطابق فتوی دیا جاتا ہے۔مسائل کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں لچک ہوتی ہے اس صورت میں یہ فتوی ہو گا اور اس صورت میں یہ فتوی ہو گا مگر عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دونوں کس طرح درست ہیں۔اس لیے وہ پھر ابتلا میں پڑ جاتے ہیں۔(ماخوذ از خطاب جلسہ سالانہ 17 مارچ 1919ء انوار العلوم جلد 4 صفحہ 404) پھر اسی طرح محکمہ پولیس کا اجراء کیا۔حضرت عمرؓ نے ملک میں امن قائم رکھنے کی خاطر احداث یعنی پولیس کا محکمہ قائم فرمایا۔اس محکمہ کو احتساب، امن و امان، بازار کی نگرانی وغیرہ کے اختیارات دیے تھے یعنی کہ لوگوں کو دیکھنا کہ وہ صحیح طرح باتوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں کہ نہیں۔کسی کے حق مارے جارہے ہیں تو ان کی ادائیگی کروانا۔جو انتظامی معاملات تھے انہیں دیکھنا جب تک معاملہ قاضی کے پاس نہیں جاتا۔امن و امان، بازار کی نگرانی وغیرہ، یہ سارے نگرانی کے اختیارات تھے۔حضرت عمرؓ نے باقاعدہ جبیلیں بھی بنوائیں۔اس سے قبل جیلوں کا رواج نہیں تھا۔سخت سزائیں بھی مجرموں کو دی جاتی تھیں۔پھر اسی طرح بیت المال کا قیام ہے۔حضرت عمرؓ سے قبل جو بھی مال آتا وہ فوری تقسیم ہو جاتا۔حضرت ابو بکر کے دور میں ایک مکان خرید کر بیت المال کے لیے وقف کیا گیا لیکن وہ بند ہی رہتا تھا کیونکہ جو بھی مال آتا اسی وقت تقسیم ہو جاتا۔15 / ہجری میں بحرین سے پانچ لاکھ کی رقم آئی تو حضرت عمرؓ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ اس رقم کا کیا کیا جائے۔ایک رائے یہ تھی کہ سلاطین شام میں خزانے کا محکمہ قائم ہے۔چنانچہ اس رائے کو حضرت عمر نے پسند فرمایا اور مدینہ میں بیت المال کی بنیاد ڈالی۔حضرت عبد اللہ بن ارقم کو خزانے کا افسر مقرر کیا گیا۔بعد میں مدینہ کے علاوہ تمام صوبہ جات اور ان کے صدر مقامات میں بیت المال قائم