خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 397

خطبات مسرور جلد 19 397 28 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2021ء بمطابق 09 روفا 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ہو رہا تھا۔محکمہ قضا کے اجراء کے بارے میں روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے با قاعدہ قضا کے صیغہ کا اجراء فرمایا۔تمام اضلاع میں با قاعدہ عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے۔حضرت عمرؓ نے قضا کے متعلق قانونی احکامات بھی صادر فرمائے۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 195 تا 198 ادارہ اسلامیات کراچی 2004ء) قاضیوں کے انتخابات میں ماہرین فقہ کو منتخب کیا جاتا لیکن حضرت عمر اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا امتحان بھی لیتے تھے۔قاضیوں کی گراں قدر تنخواہیں مقرر فرماتے تاکہ کوئی غلط فیصلہ نہ کر دے۔دولت مند اور معزز شخص کو قاضی مقرر فرماتے تا کہ فیصلہ کے وقت کسی کے رعب میں نہ آسکے۔حضرت عمرؓ نے عدالت میں مساوات اور انصاف کا لحاظ رکھنے کی تلقین فرمائی۔ایک دفعہ حضرت اُبی بن کعب کے ساتھ کسی قسم کا جھگڑا تھا۔حضرت اُبی نے زید بن ثابت کی عدالت میں مقدمہ کر دیا۔زید نے حضرت عمر اور اُبی کو بلایا اور حضرت عمرؓ کی تعظیم کی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ تمہارا پہلا ظلم ہے۔یہ کہہ کر اُبی کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 199 200 ادارہ اسلامیات کراچی 2004ء) یعنی کہ ہم دونوں اب فریق ہیں۔فریقین کو فریق کی طرح دیکھو اور ساتھ ساتھ بٹھاؤ، نہ کہ مجھے عزت دو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں بیان فرماتے ہیں کہ " حضرت عمر خلیفہ ثانی کا ایک دفعہ ایک جھگڑا اُبی بن کعب سے ہو گیا تھا۔قاضی کے پاس معاملہ پیش ہوا۔انہوں نے حضرت عمر کو بلوایا اور آپ کے آنے پر " قاضی نے " اپنی جگہ ادب سے چھوڑ دی" کہ یہ خلیفہ وقت ہیں۔" حضرت عمر فریق مخالف کے پاس جابیٹھے اور قاضی سے فرمایا کہ یہ پہلی بے انصافی ہے جو آپ نے کی ہے۔اس وقت مجھ میں اور میرے فریق مخالف میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے تھا۔" احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔انوار العلوم جلد 8 صفحہ 300) حضرت عمرؓ نے افتاء کا محکمہ بھی جاری فرمایا۔قانونِ شریعت سے واقفیت کے لیے محکمہ افتاء کا قیام فرمایا اور چند صحابہ کو نامز د فرمایا کہ ان کے علاوہ کسی سے فتوی نہیں لیا جائے گا۔ان میں حضرت علی یعنی فتوی دینے والوں میں