خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد 19 394 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء عاملین کی شکایت کے متعلق حضرت عمرؓ کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی واقعہ ہے۔کوفے کے لوگ بڑے باغی تھے اور وہ ہمیشہ اپنے افسروں کے خلاف شکایتیں کرتے رہتے تھے کہ فلاں قاضی ایسا ہے۔فلاں میں یہ نقص ہے اور فلاں میں وہ نقص ہے۔حضرت عمران کی شکایات پر حکام کو بدل دیتے اور اور افسر مقرر کر کے بھیج دیتے اور ان افسروں کو بدل دیتے۔دوسرے افسر مقرر کر کے بھیج دیتے۔بعض لوگوں نے حضرت عمرؓ کو یہ بھی کہا کہ یہ طریق درست نہیں ہے۔اس طرح بدلتے رہیں گے تو وہ شکایتیں کرتے رہیں گے ، آپ بار بار افسر کو نہ بدلیں۔مگر حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں افسروں کو بدلتا ہی چلا جاؤں گا یہاں تک کہ کوفے والے خود ہی تھک جائیں۔جب اسی طرح ایک عرصہ تک ان کی طرف سے شکائیتیں آتی رہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا اب میں کوفہ والوں کو ایک ایسا گورنر بھیجو اؤں گا جو انہیں سیدھا کر دے گا۔یہ گورنر انیس سال کا ایک نوجوان تھا جو حضرت عمر نے سیدھا کرنے کے لیے بھیجا۔اس انیس سالہ نوجوان کا نام عبد الرحمن بن ابی لیلی تھا۔جب کوفے والوں کو پتہ لگا کہ انیس سال کا ایک لڑکا ان کا گورنر مقرر ہو کر آیا ہے تو انہوں نے کہا آؤ ہم سب مل کر اس سے مذاق کریں۔کوفہ کے لوگ شریر اور شوخ تو تھے ہی۔انہوں نے بڑے بڑے جبہ پوش لوگوں کو جو ستر ستر، استی استی، توے توے سال کے تھے اکٹھا کیا اور فیصلہ کیا کہ ان سب بوڑھوں کے ساتھ شہر کے تمام لوگ مل کر عبد الرحمن کا استقبال کرنے کے لیے جائیں اور مذاق کے طور پر اس سے سوال کریں کہ جناب کی عمر کیا ہے ؟ اس سے اس کی عمر پوچھیں۔جب وہ جواب دے گا تو خوب ہنسی اڑائیں گے۔اس کا مذاق اڑائیں گے کہ چھو کر اہمارا گورنر بن گیا ہے۔چنانچہ اسی سکیم کے مطابق وہ شہر سے دو تین میل باہر اس کا استقبال کرنے کے لیے آئے۔ادھر سے گدھے پر سوار عبد الرحمن بن ابی لیلی بھی آنکلے۔کوفہ کے تمام لوگ صفیں باندھ کر کھڑے تھے اور سب سے اگلی قطار بوڑھے سرداروں کی تھی۔جب عبد الرحمن بن ابی لیلی قریب پہنچے تو ان لوگوں نے پوچھا کہ آپ ہی ہمارے گورنر مقرر ہو کر آئے ہیں اور عبد الرحمن آپ ہی کا نام ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس پر ان میں سے ایک بہت بوڑھا آدمی آگے بڑھا اور اس نے کہا جناب کی عمر ؟ عبد الرحمن نے کہا میری عمر اتم میری عمر کا اندازہ اس سے لگالو کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید کو دس ہزار صحابہ کا سردار بنا کر بھیجا تھا جس میں ابو بکر اور عمر بھی شامل تھے تو جو عمر اس وقت اسامہ بن زیڈ کی تھی اس سے ایک سال میری عمر زیادہ ہے۔یہ سنتے ہی جیسے اوس پڑ جاتی ہے وہ سب شر مندہ ہو کے پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ جب تک یہ لڑکا یہاں رہے خبر دار تم نہ بولناور نہ یہ کھال ادھیڑ دے گا۔چنانچہ انہوں نے بڑے عرصہ تک گورنری کی اور کو فہ والے ان کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 23 صفحہ 222-223) پھر محاصل کا نظام ہے۔حضرت عمرؓ نے عراق اور شام کی فتوحات کے بعد خراج کے نظم و نسق کی طرف توجہ کی۔جو زمینیں بادشاہوں نے مقامی باشندوں سے جبر آچھین کر درباریوں اور امراء کو دی تھیں وہ مقامی لوگوں کو واپس دی گئیں اور ساتھ ہی حضرت عمرؓ نے حکم جاری فرما دیا کہ اہل عرب جو ان ملکوں میں پھیل گئے ہیں زراعت