خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 393
393 خطبات مسرور جلد 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء تھے۔مجلس شوری کا اجلاس اکثر خاص خاص ضرورتوں کے پیش آنے کے وقت ہو تا تھا۔اس کے علاوہ ایک اور مجلس تھی وہاں روزانہ انتظامات اور ضروریات پر گفتگو ہوتی تھی۔یہ مجلس ہمیشہ مسجد نبوی میں منعقد ہوتی تھی اور صرف مہاجرین صحابہ اس میں شریک ہوتے تھے۔صوبہ جات اور اضلاع کی روزانہ خبریں جو دربار خلافت میں پہنچتی تھیں۔حضرت عمر اس مجلس میں بیان کرتے تھے اور کوئی بحث طلب امر ہو تا تھا تو اس میں لوگوں سے رائے لی جاتی تھی۔مجلس شوری کے ارکان کے علاوہ عام رعایا کو انتظامی امور میں مداخلت حاصل تھی۔صوبہ جات اور اضلاع کے حاکم اکثر رعایا کی مرضی سے مقرر کیے جاتے تھے بلکہ بعض اوقات بالکل انتخاب کا طریقہ عمل میں آتا تھا۔کوفہ ، بصرہ اور شام میں جب عمال خراج مقرر کیے جانے لگے تو حضرت عمر نے ان تینوں صوبوں میں احکام بھیجے کہ وہاں کے لوگ اپنی اپنی پسند سے ایک ایک شخص انتخاب کر کے بھیجیں جو ان کے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ دیانت دار اور قابل ہو۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 180 تا 182 دار الاشاعت کراچی 1991ء) عاملین کی تقرری اور ان کے لیے کیا ہدایات دیں؟ حضرت عمررؓ کس طرح ہدایات دیتے تھے ؟ اس بارے میں لکھا ہے کہ اہم خدمات کے لیے عہدیداروں کی تقرری شوری کے ذریعہ کی جاتی۔جس پر سب ارکان اتفاق کر لیتے اُس کا انتخاب کر لیا جاتا۔بعض اوقات صو بہ یا ضلع کے حاکم کو حکم بھیجتے کہ جو شخص زیادہ قابل ہو اس کا انتخاب کر کے بھیجو۔چنانچہ انہی منتخب لوگوں کو حضرت عمر عامل مقرر فرما دیتے۔حضرت عمرؓ نے عاملین کی زیادہ تنخواہیں مقرر فرمائی تھیں۔یہ بھی بڑی حکمت ہے تاکہ ایمانداری سے یہ لوگ اپنے کام کر سکیں، کوئی دنیاوی لالچ نہ ہو۔حضرت عمر عہدے داروں کو یہ نصائح فرماتے کہ یادر کھو! میں نے تم لوگوں کو امیر اور سخت گیر مقرر کر کے نہیں بھیجا بلکہ امام بنا کر بھیجا ہے تاکہ لوگ تمہاری تقلید کریں۔مسلمانوں کے حقوق ادا کرنا۔ان کو زدو کوب نہیں کرنا کہ وہ ذلیل ہوں۔سزائیں نہیں دینی بلکہ ان کے حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔کسی کی بے جا تعریف نہیں کرنی کہ وہ فتنوں میں پڑیں۔ان کے لیے اپنے دروازے ہمیشہ بند نہ رکھنا کہیں طاقتور کمزوروں کو نہ کھا جائیں۔اپنے آپ کو کسی پر ترجیح نہ دینا کہ یہ ان پر ظلم ہے۔جو شخص عامل مقرر ہوتا اس سے یہ عہد لیا جاتا کہ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہو گا۔باریک کپڑے نہیں پہنے گا۔چھنا ہوا آٹا نہیں کھائے گا۔دروازے پر دربان مقرر نہیں کرے گا۔ضرورت مندوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رکھے گا۔یہ ہدایات تمام عاملین کے لیے تھیں اور لوگوں میں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں۔عاملین مقرر کرنے کے بعد ان کے مال و اسباب کی جانچ کی جاتی تھی۔اگر عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہوتی جس کے بارے میں وہ تسلی نہ کروا سکتے تو اس کا مواخذہ کیا جاتا اور زائد مال بیت المال میں جمع کروالیا جاتا۔عاملین کو حکم تھا کہ حج کے موقع پر لازمی جمع ہوں۔وہاں پبلک عدالت لگتی جس میں کسی شخص کو کسی عامل سے شکایت ہوتی تو فوراً اس کا ازالہ کیا جاتا۔عاملین کی شکایات پیش ہو تیں ان کی تحقیقات کے متعلق بھی ایک عہدہ قائم تھا جس پر کبار صحابہ ہوتے جو تحقیقات کے لیے جاتے اور اگر شکایت سچ ہوتی تو عاملین کا مواخذہ کیا جاتا۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 189 تا 193 دار الاشاعت کراچی 1991ء)