خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد 19 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء دو سوئم ادا کیے ہوئے تھے۔مکمل ادائیگی کی ابھی توفیق نہیں ملی تھی۔میری ایک بیمار بہن ہیں، حکومت اسے ہر ماہ چار ہزار سم ادا کرتی ہے۔اس روز جمعہ کے بعد میں اپنی بہن کی پینشن لینے بینک گیا۔جب میں نے اے ٹی ایم مشین میں کارڈ ڈالا تو اکاؤنٹ میں دس ہزار سم موجود تھے۔ایک ہفتہ قبل میری والدہ نے حکومت کو ایک خط لکھا تھا کہ ہمارا گزارہ اس طرح نہیں ہو تا تو الاؤنس بڑھایا جائے تو میں سمجھا کہ یہ وہی رقم آئی ہے حکومت کی طرف سے۔لیکن کہتے ہیں کہ آج صبح 29 دسمبر کو حکومت کی طرف سے فون آیا کہ وعدہ کے مطابق آپ لوگوں کو ہم پانچ ہزار سم دیں گے۔اس طرح مزید پانچ ہزار سم بھی مل گئے۔اور کہتے ہیں میں نے چندہ بھی ادا کر دیا اور جو ہم پہلے خرچ کر چکے تھے یہ اس میں سے نکال لیا۔تو کہتے ہیں جو چندہ میں نے ادا کیا تھا یہ فوری طور پر اس کی برکت کا نتیجہ ہے۔ہمیں نہیں پتہ لگا کہ وہ پہلے پیسے کہاں سے آئے تھے لیکن بہر حال ہمارے اکاؤنٹ میں آئے ہوئے تھے اور بینک نے کہا کہ یہ تمہارے ہی پیسے ہیں۔اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔تو یہ جو قربانیاں ہیں پھر ایمان میں ترقی کا باعث بنتی ہیں۔تنزانیہ کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ زنجبار (Zanzibar) جماعت سے خیر رشیدی صاحب ہیں۔انہیں جب اس سال کے اختتام پر وقف جدید کی یاد دہانی کروائی گئی۔تو انہوں نے لکھا کہ جب یہ یاد دہانی ہوئی ہے اس وقت میرے پاس نہ کوئی نوکری تھی اور نہ ہی کوئی رقم لیکن میں نے مربی صاحب سے درخواست کی کہ آپ میر انام مکمل ادائیگی کرنے والوں کی فہرست میں شامل کر دیں۔اللہ تعالیٰ خود ہی انتظام فرمادے گا۔کہتے ہیں دو دن گزرے ہوں گے کہ مجھے ڈرائیور کی نوکری مل گئی اور پہلے ہی دن جو آمد ہوئی اس سے بآسانی میں نے اپنا اور اپنے بچوں کی طرف سے چندہ وقف جدید ادا کر دیا۔تو کہتے ہیں چندہ ادا کرنے کی نیت کی وجہ سے مستقل آمد کا میرا انتظام ہو گیا۔پھر کہتے ہیں کہ یہ دیکھیں ایسی باتیں ہیں کہ ان باتوں سے پھر ہمارا ایمان بھی پختہ ہوتا ہے۔تنزانیہ کے امیر صاحب ہی تحریر کرتے ہیں ارینگار یجن سے طلا صاحب نے بیان کیا کہ اس سال خاکسار کو چندہ وقف جدید کے حوالے سے غیر معمولی برکات مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔کہتے ہیں وقف جدید کا وعدہ تقریباً چھ لاکھ شلنگ (Shilling) تھا۔نومبر میں مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مجھے خط لکھا کہ مجموعی طور پر ملکی اور کاروباری حالات بہت خراب ہیں اس لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے میں وقف جدید کا وعدہ مکمل کر سکوں۔اب یہ لوگ جو خط مجھے لکھتے ہیں یہ بھی صرف ذاتی ضروریات کے لیے نہیں لکھتے، بلکہ یہ فکر کے ساتھ لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہم اپنا چندہ ادا کر سکیں۔آگے بعض واقعات آئیں گے کہ لوگ تو اس لیے نمازیں اور تہجد پڑھتے ہیں کہ ہم چندوں کی ادائیگی کر سکیں بجائے اس کے کہ اپنی ذاتی ضروریات پوری کریں۔کہتے ہیں ابھی خط لکھا ہی تھا کہ دل میں سکون سا محسوس ہوا کہ ان شاء اللہ کچھ سامان ہو جائے گا اور ابھی خط لکھے ہوئے چوبیس گھنٹے ہی گزرے ہوں گے کہ کسی ریفرنس سے میرے پاس ایک دوست اپنے کاروبار کے سلسلہ میں مشورہ اور (consultation) کے لیے آئے۔ان سے ملنے پر علم ہوا کہ پندرہ سال پہلے ہم دونوں کلاس فیلو بھی تھے۔کہتے ہیں ان کے کام کے سلسلہ میں جو باتیں ہوئیں کاروباری باتیں ہوئیں۔پھر مجھے ان کے ذریعہ سے ایک کنٹریکٹ مل گیا جو اس وقت چھ ملین شلنگ کا کنٹریکٹ تھا۔کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے وعدے کی رقم سے کئی گنا زیادہ، دس گنا کنٹیشن