خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 392
خطبات مسرور جلد 19 392 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021 ء میں سب سے پہلی مردم شماری جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کروائی گئی تھی وہ اس لئے کروائی گئی تھی تاکہ تمام لوگوں کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے اس لئے نہیں کہ ٹیکس لگایا جائے یا یہ معلوم کیا جائے کہ ضرورت کے وقت فوج کے لئے کتنے نوجوان مل سکیں گے بلکہ وہ مردم شماری محض اس لئے تھی کہ تاہر فرد کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مردم شماری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہوئی تھی مگر اس وقت ابھی مسلمانوں کو حکومت حاصل نہیں ہوئی تھی اس لئے اس مردم شماری کا مقصد محض مسلمانوں کی تعداد معلوم کرنا تھی۔جو مردم شماری اسلامی حکومت کے زمانہ میں سب سے پہلے ہوئی وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہوئی اور اس لئے ہوئی تاکہ ہر فرد کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے۔یہ کتنی بڑی اہم چیز ہے جس سے تمام دنیا میں امن قائم ہو جاتا ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ درخواست دے دو اس پر غور کیا جائے گا اسے ہر انسان کی غیرت برداشت نہیں کر سکتی" کہ درخواستیں منگوائی جائیں پھر غور کیا جائے۔" اس لئے اسلام نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ کھانا اور کپڑا حکومت کے ذمہ ہے اور یہ ہر امیر اور غریب کو دیا جائے گا خواہ وہ کروڑ پتی ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ آگے کسی اور کو ہی کیوں نہ دے دے تاکہ کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ اسے ادنی خیال کیا جاتا ہے۔" (تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 308) جو امیروں کو ملے گا تو امیر بھی اگر وہ تقوی پر چلنے والے ہیں تو بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے وہ پھر آگے ضرورت مندوں کو دیں گے۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں ممالک کو صوبہ جات میں تقسیم کیا گیا۔بیس ہجری میں مقبوضہ ممالک کو حضرت عمر نے آٹھ صوبوں میں تقسیم فرمایا تا کہ انتظامی امور میں آسانی رہے۔نمبر ایک مکہ، نمبر دو مدینہ، نمبر تین شام، نمبر چار جزیرہ، نمبر پانچ بصرہ، نمبر چھ کو فہ ، نمبر سات مصر اور نمبر آٹھ فلسطین۔(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحه 185 دار الاشاعت کراچی 1991ء) پھر شوری کا قیام آپ کے زمانے میں ہوا۔مجلس شوری میں ہمیشہ لازمی طور پر ان دونوں گروہ یعنی مہاجرین اور انصار کے ارکان شریک ہوتے تھے۔انصار بھی دو قبیلوں میں منقسم تھے اوس اور خزرج۔چنانچہ ان دونوں خاندانوں کا مجلس شوری میں شریک ہونا ضروری تھا۔اس مجلس شوری میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت شامل ہوتے تھے۔مجلس کے انعقاد کا یہ طریقہ تھا کہ پہلے ایک منادی اعلان کرتا تھا کہ الصلوةُ جَامِعَةٌ یعنی سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔جب لوگ جمع ہو جاتے تو حضرت عمر مسجد نبوی میں جا کر دور کعت نماز پڑھتے تھے۔نماز کے بعد منبر پر جاکر چڑھ کر خطبہ دیتے تھے اور بحث طلب امر پیش کیا جاتا تھا۔اس پر بحث ہوتی تھی۔معمولی اور روز مرہ کے کاروبار میں اس مجلس کے فیصلے کافی سمجھے جاتے تھے لیکن جب کوئی اہم امر پیش آتا تھا تو مہاجرین اور انصار کا اجلاس عام ہو تا تھا اور سب کے اتفاق سے وہ امر طے پاتا تھا۔فوج کی تنخواہ، دفتر کی ترتیب، شمال کا تقرر، غیر قوموں کی تجارت کی آزادی اور ان پر محصول کی تشخیص۔غرض اس قسم کے بہت سے معاملات ہیں جو شوری میں پیش ہو کر طے پاتے