خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 391
خطبات مسرور جلد 19 391 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء اور ان کے کپڑے کا انتظام کیا ہے۔حالانکہ سب سے پہلے اس قسم کا اقتصادی نظام اسلام نے جاری کیا ہے اور عملی رنگ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہر گاؤں، ہر قصبہ اور ہر شہر کے لوگوں کے نام رجسٹر میں درج کیے جاتے تھے۔ہر شخص کی بیوی، اس کے بچوں کے نام اور ان کی تعداد درج کی جاتی تھی اور پھر ہر شخص کے لیے غذا کی بھی ایک حد مقرر کر دی گئی تھی تاکہ تھوڑا کھانے والے بھی گزارہ کر سکیں اور زیادہ کھانے والے بھی اپنی خواہش کے مطابق کھا سکیں۔تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں جو فیصلے فرمائے ان میں دودھ پیتے بچوں کا خیال نہیں رکھا گیا تھا اور ان کو اس وقت غلہ وغیرہ کی صورت میں مددملنی شروع ہوتی تھی جب مائیں اپنے بچوں کا دودھ چھڑا دیتی تھیں۔"جیسا کہ گذشتہ خطبہ میں میں نے بیان کیا تھا کہ " ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے گشت لگا رہے تھے کہ ایک خیمہ میں سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آئی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں ٹھہر گئے۔مگر بچہ تھا کہ روتا چلا جاتا تھا اور ماں اسے تھپکیاں دے رہی تھی تا کہ وہ سو جائے۔جب بہت دیر ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس خیمہ کے اندر گئے اور عورت سے کہا کہ تم بچے کو دودھ کیوں نہیں پلاتی۔یہ کتنی دیر سے رورہا ہے ؟ اس عورت نے آپ کو پہچانا نہیں۔اس نے سمجھا کہ کوئی عام شخص ہے۔چنانچہ اس نے جواب میں کہا کہ تمہیں معلوم نہیں عمر نے فیصلہ کر دیا ہے کہ دودھ پینے والے بچہ کو غذا نہ ملے۔ہم غریب ہیں ہمارا گزارہ تنگی سے ہوتا ہے۔میں نے اس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے تاکہ بیت المال سے اس کا غلہ بھی مل سکے۔اب اگر یہ روتا ہے تو روئے عمر کی جان کو جس نے ایسا قانون بنایا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت واپس آئے اور راستہ میں نہایت غم سے کہتے جاتے تھے کہ عمر! عمر ! معلوم نہیں تو نے اس قانون سے کتنے عرب بچوں کا دودھ چھڑوا کر آئندہ نسل کو کمزور کر دیا ہے۔ان سب کا گناہ اب تیرے ذمہ ہے۔یہ کہتے ہوئے آپ سٹور میں آئے ، دروازہ کھولا اور ایک بوری آٹے کی اپنی پیٹھ پر اٹھا لی۔کسی شخص نے کہا کہ لائیے میں اس بوری کو اٹھا لیتا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔نہیں! غلطی میری ہے اور اب ضروری ہے کہ اس کا خمیازہ بھی میں ہی بھگتوں۔چنانچہ وہ بوری آٹے کی انہوں نے اس عورت کو پہنچائی اور دوسرے ہی دن حکم دیا کہ جس دن بچہ پید اہو اسی دن سے اس کے لیے غلہ مقرر کیا جائے کیونکہ اس کی ماں جو اس کو دودھ پلاتی ہے زیادہ غذا کی محتاج ہے۔" اسلام کا اقتصادی نظام۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 61-62) پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " اسلام ہی ہے جس نے ملکی حقوق بھی قائم کیسے ہیں۔اسلام کے نزدیک ہر فرد کی خوراک، رہائش اور لباس کی ذمہ وار حکومت ہے اور اسلام نے ہی سب سے پہلے اس اصول کو جاری کیا ہے۔اب دوسری حکومتیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں مگر پورے طور پر نہیں۔بیسے کیے جارہے ہیں۔فیملی پشنیں دی جارہی ہیں۔مگر یہ کہ جوانی اور بڑھا پے دونوں میں خوراک اور لباس کی ذمہ وار حکومت ہوتی ہے یہ اصول اسلام سے پہلے کسی مذہب نے پیش نہیں کیا۔دنیاوی حکومتوں کی مردم شماریاں اس لئے ہوتی ہیں تا ٹیکس لیے جائیں یا فوجی بھرتی کے متعلق یہ معلوم کیا جائے کہ ضرورت کے وقت کتنے نوجوان مل سکتے ہیں۔مگر اسلامی حکومت