خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 388

خطبات مسرور جلد 19 388 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء مصائب میں دوچار کر دیتی ہے۔حضرت عمرؓ نے کفایت شعاری سے کام لیا اور مسجد کو اسی طرز پر استوار کیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ہوا کرتی تھی۔مسجد کی توسیع کرتے وقت انہیں اس سے ملحقہ مکانات حاصل کرنے پڑے جو کہ شمال جنوب اور مغربی جانب تھے۔کچھ لوگوں نے برضاور غبت اپنی زمینیں مسجد کے لیے ہبہ کر دیں اور کچھ کے لیے حضرت عمرؓ کو افہام و تفہیم اور مالی ترغیب کا طریقہ اختیار کرنا پڑا۔اس طرح کچھ زمین آپ کو خرید کر مسجد میں شامل کرنا پڑی۔(ماخوذ از جستجوئے مدینہ از عبد الحمید قادری صفحہ 459 اور مینٹل پبلی کیشنز لاہور 2007ء) حضرت عمرؓ کے زمانے میں مردم شماری کا رواج بھی شروع ہوا یا آپ نے کروائی اور راشنگ سسٹم (rationing system) بھی خوراک کے لیے مقرر ہوا۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ اسلامی حکومت کا نظم و نسق کس طرح چلتا تھا اور کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں۔کیا کیا نئی باتیں انتظامی معاملات میں پیدا اور شروع کی گئیں۔آپ لکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آکر پہلا کام یہی کیا تھا کہ جائید ادوالوں کو بے جائیداد والوں کا بھائی بنادیا۔انصار جائیدادوں کے مالک تھے اور مہاجر بے جائیداد تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین دونوں میں مؤاخات قائم فرما دی اور ایک ایک جائیداد والے کو ایک ایک بے جائیداد والے سے ملا دیا اور اس میں بعض لوگوں نے اتنا غلو کیا کہ دولت تو الگ رہی، بعض کی اگر دو بیویاں تھیں تو انہوں نے اپنے اپنے مہاجر بھائیوں کی خدمت میں یہ پیشکش کی کہ وہ ان کی خاطر اپنی ایک بیوی کو طلاق دینے کو تیار ہیں۔وہ ان سے بے شک شادی کر لیں۔یہ مساوات کی پہلی مثال تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جاتے ہی قائم فرمائی کیونکہ حکومت کی بنیاد در اصل مدینہ میں ہی پڑی تھی۔اس زمانہ میں زیادہ دولتیں نہ تھیں۔یہی صورت تھی کہ امیر اور غریب کو اس طرح ملا دیا جائے کہ ہر شخص کو کھانے کے لیے کوئی چیز مل سکے۔پھر ایک جنگ کے موقع پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریق کو استعمال فرمایا گو اس کی شکل بدل دی۔ایک جنگ کے موقع پر آپ کو معلوم ہوا کہ بعض لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں رہی یا اگر ہے تو بہت ہی کم اور بعض کے پاس کافی چیزیں ہیں۔تو یہ صورت حال دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جس کے پاس جو کوئی چیز ہے وہ لے آئے اور ایک جگہ جمع کر دی جائے۔چنانچہ سب چیزیں لائی گئیں اور آپ نے راشن مقرر کر دیا۔گویا یہاں بھی وہی طریق آگیا کہ سب کو کھانا ملنا چاہیے۔جب تک ممکن تھا سب لوگ الگ الگ کھاتے رہے مگر جب یہ امر ناممکن ہو گیا اور خطرہ پید اہو گیا کہ بعض لوگ بھوکے رہنے لگ جائیں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تمہیں علیحدہ کھانے کی اجازت نہیں، اب سب کو ایک جگہ سے برابر کھانا ملے گا۔یہ موقع کی مناسبت کے لحاظ سے فیصلہ ہوا تھا۔کوئی سوشلزم کا یا کمیونزم کا نظریہ نہیں قائم کیا گیا تھا۔بہر حال صحابہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر ہم نے اس سختی سے عمل کیا کہ اگر ہمارے پاس ایک کھجور بھی ہوتی تو ہم اس کا کھانا سخت بد دیانتی سمجھتے تھے اور اس وقت تک چین نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس کو سٹور میں داخل نہیں کر دیتے تھے۔یہ دوسر انمونہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔جب تک کہ حالات خراب تھے