خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد 19 389 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء اس وقت تک یہ اسی طرح ہو تا تھا اور یہ نمونہ آپ نے قائم کیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دولت بھی آئی اور خزانوں کے منہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیئے۔مگر اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس بارہ میں تفصیلی نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری ہو تالوگ یہ نہ کہہ دیں کہ یہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔کوئی اور شخص اسے جاری نہیں کر سکتا۔جب دولتیں آگئیں تو پر انا نظام جاری ہو گیا لیکن بعد میں بھی اس کو اللہ تعالیٰ نے جاری کرنے کا انتظام فرمایا۔وہ کس طرح؟ آپ لکھتے ہیں کہ چنانچہ ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ایک نمونہ قائم کر دیا اور ادھر مدینہ پہنچتے ہی انصار نے اپنی دولتیں مہاجرین کے سامنے پیش کر دیں۔مہاجرین نے کہا ہم یہ زمینیں مفت میں لینے کے لیے تیار نہیں۔ہم ان زمینوں پر بطور مزارع کام کریں گے اور تمہارا حصہ تمہیں دیں گے۔لیکن یہ مہاجرین کی طرف سے اپنی ایک خواہش کا اظہار تھا۔انصار نے اپنی جائیدادوں کے دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گورنمنٹ راشن دے تو کوئی شخص نہ لے۔اس سے گورنمنٹ زیر الزام نہیں آئے گی۔یہی کہا جائے گا کہ گورنمنٹ نے تو راشن مقرر کر دیا تھا۔اب دوسرے شخص کی مرضی تھی کہ وہ چاہے لیتایا نہ لیتا۔اسی طرح انصار نے سب کچھ دے دیا۔یہ الگ بات ہے کہ مہاجرین نے نہ لیا۔غرض عملی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام اپنی زندگی میں ہی شروع فرما دیا تھا۔یہاں تک کہ جب بحرین کا بادشاہ مسلمان ہو ا تو آپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ تمہارے ملک میں جن لوگوں کے پاس گزارہ کے لیے کوئی زمین نہیں ہے تم ان میں سے ہر شخص کو چار در ہم اور لباس گزارہ کے لیے دو تاکہ وہ بھوکے اور ننگے نہ رہیں۔اس کے بعد مسلمانوں کے پاس دولتیں آنی شروع ہو گئیں۔چونکہ مسلمان کم تھے اور دولت زیادہ تھی اس لیے کسی نئے قانون کے استعمال کی اس وقت ضرورت محسوس نہ ہوئی۔کیونکہ جو غرض تھی وہ پوری ہو رہی تھی۔اصول یہ ہے کہ جب خطرہ ہو تب قانون جاری کیا جائے اور جب نہ ہو اس وقت اجازت ہے کہ حکومت اس قانون کو جاری کرے یا نہ کرے۔پھر جو بات میں نے شروع کی تھی، جو میں بیان کرنا چاہتا تھا بیچ میں دوسری تفصیل آگئی۔اب وہ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ یہ نظام کس طرح جاری ہوا ؟ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور مسلمان دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلنا شروع ہوئے تو اس وقت غیر قومیں بھی اسلام میں شامل ہو گئیں۔عرب لوگ تو ایک جتھہ اور ایک قوم کی شکل میں تھے اور وہ آپس میں مساوات بھی قائم رکھتے تھے۔جب اسلام مختلف گوشوں میں پہنچا اور مختلف قومیں اسلام میں داخل ہونی شروع ہوئیں تو ان کے لیے روٹی کا انتظام بڑا مشکل ہو گیا۔آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام لوگوں کی مردم شماری کرائی اور راشنگ سسٹم (rationing system) قائم کر دیا جو بنو امیہ کے عہد تک جاری رہا۔یورپین مؤرخ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سب سے پہلی مردم شماری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کروائی تھی اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے یہ سب سے پہلی مردم شماری رعایا سے دولت چھینے کے لیے نہیں بلکہ ان کی غذا کا انتظام کرنے کے لیے جاری کی تھی۔اور حکومتیں تو اس لیے مردم شماری کراتی ہیں کہ لوگ قربانی کے