خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 387
خطبات مسرور جلد 19 387 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021 ء معاف فرما! ہم پر رحم کر اور ہم سے راضی ہو جا۔اس کے بعد آپ واپس لوٹے۔ابھی گھر نہیں پہنچ پائے تھے کہ میدان میں بارش کی وجہ سے تالاب بن گیا۔( تاریخ طبری جلد 2 صفحه 508-509 سنة 18 دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے اللہ ! تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہم پر خشک سالی ہوتی تو ہم تیرے نبی کے واسطے بارش کی دعا کیا کرتے تھے تو تُو ہم پر بارش برساتا تھا۔آج ہم تجھے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا واسطہ دے کر دعا کر رہے ہیں۔پس تو ہماری یہ قحط سالی ختم کر دے اور ہم پر بارش نازل فرما۔چنانچہ لوگ ابھی اپنی جگہوں سے ہٹے نہ تھے کہ بارش برسنی شروع ہو گئی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 4 صفحه 21 دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) مسجد نبوی میں چٹائیاں بچھانے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ پہلے لوگ اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور فرش پر یا کچی جگہ پر نماز پڑھتے تھے۔ماتھے پہ مٹی لگ جایا کرتی تھی۔اس کے بعد پھر چٹائیوں کا رواج ہوا۔اس بارے میں عبد اللہ بن ابراہیم سے روایت ہے کہ سب سے پہلے مسجد نبوی میں جس نے چٹائی بچھائی وہ حضرت عمر بن خطاب تھے۔پہلے لوگ جب اپنا سر سجدے سے اٹھاتے تو اپنے ہاتھ جھاڑا کرتے تھے۔اس پر آپ نے چٹائیاں بچھانے کا حکم دیا جو عقیق سے لائی گئیں اور مسجد نبوی میں بچھائی گئیں۔عقیق بھی ایک وادی کا نام ہے جو مدینہ کے جنوب مغرب سے شروع ہو کر شمال مغرب تک تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی وادی ہے۔کہتے ہیں بہت بڑی وادی ہے۔(ماخوذ از ازالۃ الخفاء عن خلافة الخلفاء مترجم از شاہ ولی اللہ جلد 3 صفحہ 236 مناقب فاروق اعظم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) (السیرت نبوی صفحه 168 - دار السلام الرياض (1424ھ) حضرت عمرؓ کے زمانے میں سترہ ہجری میں مسجد نبوی کی توسیع بھی ہوئی تھی۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی جس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں سے بنی ہوئی تھی اور ستون کھجور کے تنوں کے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو اسی حال میں رہنے دیا اور اس میں کوئی توسیع یا تبدیلی نہ کی۔حضرت عمرؓ نے اس کی تعمیر نو اور توسیع کروائی مگر اس کی ہیئت اور طرز تعمیر میں کوئی تبدیلی نہ کرائی۔انہوں نے بھی اسے اسی طرح کے طرز تعمیر سے بنوایا۔چھت پہلے کی طرح کھجور کے پتوں کی ہی رہی۔انہوں نے صرف ستون لکڑی کے ڈلوا دیے۔حضرت عمرؓ نے سترہ ہجری میں مسجد کی تعمیر کو اپنی زیر نگرانی مکمل کروایا۔اس توسیع کے بعد مسجد کا رقبہ سوضرب سو (100X100) ذرع یعنی تقریباً پچاس ضرب پچاس (50X50 میٹر سے بڑھ کر ایک سو چالیس ضرب ایک سو بیس (140X120) ذرع تقریباً ستر ضرب ساٹھ (70X60) میٹر ہو گیا۔اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر کے دور میں بھی مسجد نبوی وہی رہی جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھی تاہم حضرت عمر کی تعمیر نو کے ساتھ اس میں کافی توسیع ہو گئی تھی۔ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حکم دیا کہ مسجد نبوی کی تعمیر نو کی جائے اور لوگوں کو بارش سے بچانے کا بندوبست کیا جائے تاہم سرخ و سفید تزئین سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہی تزئین انسان کو