خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 386

خطبات مسرور جلد 19 386 خطبه جمعهہ فرمودہ مور محمد 02 جولائی 2021ء اسامہ بن زید بن اسلم نے اپنے دادا سے روایت کی کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے قحط رفع نہ کیا تو حضرت عمررؓ مسلمانوں کی فکر میں مر ہی جائیں گے۔زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قحط کے زمانے میں سارے عرب سے لوگ مدینہ آئے۔حضرت عمرؓ نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کا انتظام کریں اور انہیں کھانا کھلائیں۔مدینہ کے چاروں طرف حضرت عمر نے مختلف اصحاب کی ڈیوٹی لگادی تھی جو ایک ایک لمحہ کی خبر شام کو جمع ہو کر آپ کو دیتے تھے۔صبح سے لے کے شام تک جو خبریں بھی ہوتی تھیں شام کو آپ کے پاس لائی جاتی تھیں۔آپ کو وہ خبریں پہنچائی جاتی تھیں۔مدینہ کے مختلف علاقوں میں بدوی لوگ آئے ہوئے تھے۔ایک رات جب لوگ رات کا کھانا کھا چکے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جنہوں نے ہمارے ساتھ رات کا کھانا کھایا ہے ان کا شمار کرو۔چنانچہ ان کا شمار کیا گیا تو سات ہزار کے قریب افراد تھے۔پھر آپ نے فرمایا کہ جو نہیں آئے انہیں اور مریضوں اور بچوں کو بھی شمار کر و۔جب گنتی کی گئی تو وہ چالیس ہزار کی تعداد تھی۔چند دن بعد یہ تعداد بڑھ گئی۔دوبارہ گنتی کی گئی تو جو لوگ آپ کے ساتھ کھانا کھارہے تھے ان کی تعداد دس ہزار اور دوسروں کی تعداد پچاس ہزار ہو گئی۔اسی طرح سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرما دی۔جب بارش ہوئی تو میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے عاملین کو حکم دیا کہ سب لوگوں کا ان کے اپنے اپنے علاقے میں واپسی کا انتظام کریں اور انہیں غلہ اور سواریاں بھی مہیا کریں۔راوی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بنفس نفیس ان لوگوں کو روانہ کرنے کے لیے آتے تھے۔(ماخوذ از الطبقات الكبرى جزء 3 صفحه 165 تا 169 ذكر هجرة عمر بن الخطاب مطبوعه داراحياء التراث العربي بيروت 1996ء) (لغات الحدیث جلد 1 صفحہ 234 زیر لفظ شرید۔نعمانی کتب خانہ لاہور 2005ء)( فتح الباری شرح صحيح البخاری جلد 5 صفحه 460-461 حديث 2764 دار الريان للتراث القاهرة 1986ء) ارد گرد کے لوگ بھوک سے تنگ آ کے شہر میں آگئے تھے۔کھانا ان کو یہاں ملتا تھا۔جب حالات ٹھیک ہو گئے ، بارشیں ہو گئیں اور زراعت وغیرہ ہو سکتی تھی تو پھر آپ نے کہا واپس جاؤ اور محنت کرو اور اپنی کھیتیوں کو آباد کرو۔تاریخ طبری میں اس قحط کے ختم ہونے کے متعلق لکھا ہے کہ ایک شخص نے خواب دیکھا جس کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی طرف توجہ دلائی جس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اعلان کرایا کہ نماز استسقاء پڑھی جائے گی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: مصیبت اپنے انتہا کو پہنچ چکی اور اب ان شاء اللہ ختم ہونے والی ہے۔جس قوم کو دعا کی توفیق مل گئی پس سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی مصیبت دور ہو گئی۔آپ نے دیگر شہروں کے گورنروں کے نام خط تحریر فرمائے کہ تم مدینہ اور ان کے اطراف کے بندگان خدا کے لیے نماز استسقاء پڑھو کیونکہ وہ مصیبت کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کو نماز استسقاء کے لیے باہر میدان میں جمع کیا اور حضرت عباس کو لے کر حاضر ہوئے، مختصر خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی پھر دوزانو ہو کر بیٹھے اور دعا شروع کی۔اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، اَللّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَارْضَ عَنَّا اے اللہ ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد کے خواہاں ہیں۔اے اللہ ! ہمیں