خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 23
خطبات مسرور جلد 19 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء کی اہمیت بتانے میں سستی ہوئی ہے ، تحریک جدید کے چندے کے اعلان کے وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ سیر الیون میں کافی استعداد ہے، پوٹینشل (Potential) ہے اور اگر وہ چاہیں تو اپنے چندوں میں بہتری کر سکتے ہیں۔چنانچہ اس پیغام کو لے کے وہ جماعتوں میں گئے اور انہوں نے کہا کہ خلیفة المسیح کا یہ پیغام ہے کہ سیر الیون کافی بڑی اور پرانی جماعت ہے اور افراد جماعت قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔سستی ہے تو عہدیداروں کی طرف سے ہے۔کہتے ہیں کہ یہ پیغام سن کے احباب جماعت میں ایک جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا اور انہوں نے نہ صرف یہ کہ وقف جدید کے چندے ادا کر دیے بلکہ دوسرے چندہ جات میں بھی اضافہ کے ساتھ ادا ئیگی کی۔Newton ایک جگہ ہے وہاں اٹھارہ گھر انوں میں رابطہ کیا جس کے نتیجہ میں تیرہ لاکھ لیون ایک ہی دن میں وصول ہو گئے۔دو احمدی سکولوں کے طلباء نے تین لاکھ لیون ایک ہی دن میں وقف جدید میں ادا کر دیے اور مزید دو لاکھ لیون کا بعد میں اضافہ کر دیا۔Newton میں ایک بچی مسلمہ فوفونہ (Muslima Fofanah) نے پچاس ہزار لیون ادا کیے اور کہا کہ اس کے لیے خلیفة المسیح کی خدمت میں دعا کی درخواست کریں۔کہتے ہیں پانچ طالب علموں نے مجھے بتایا کہ مزدوری کرنے پر جو اجرت ملی تھی انہوں نے پچاس ہزار لیون وقف جدید میں پیش کر دیے۔پس یہ ہیں وہ لوگ جو خلیفہ وقت کے حکم پر لبیک کہنے والے ہیں۔کبھی ملے نہیں، کبھی اس طرح آمنے سامنے بیٹھے نہیں لیکن ان کے دلوں میں خلافت سے محبت اور اس کا احترام ہے اور اسی لیے پھر اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔پھر اسی محبت کی ایک اور مثال دیکھیں۔Newton جماعت کی ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے S۔Bah کے گھر جا کر چندہ کی تحریک کی اور خطبہ کا اقتباس سنایا کہ سیر الیون میں افراد جماعت قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہیں تو ان کی اہلیہ صاحبہ بڑی جذباتی ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ خلیفۃ المسیح نے بالکل ٹھیک کہا ہے اور پھر کہتی ہیں لیکن مجبوری ہے کہ آج ہمارے گھر میں کچھ نہیں ہے۔کہتے ہیں ابھی بیٹھے ہوئے تھے کہ کہیں سے بالکل خلاف توقع کوئی رقم آگئی جو انہوں نے اسی وقت سیکرٹری مال جو ان کے ساتھی تھے ان کو پکڑا دی کہ ہماری چندہ کی رسید کاٹ دیں۔گنے پر پتہ لگا کہ دو لاکھ لیون ہیں جو انہوں نے سارے چندے میں ادا کر دیے۔اور اس ادائیگی سے بہت مطمئن اور خوش تھیں۔کوئی شکوہ نہیں تھا کہ ایسے غلط وقت میں آگئے ابھی تو ہمیں خود ضرورت ہے۔ہماری جور قم آئی ہے وہ تم لے گئے۔تو کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ رقم میں سے گھر میں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ رکھ لیں۔کہنے لگیں اب تو کچھ نہیں ہے۔جور تم آئی ہے چندہ میں ادا کر دی ہے۔اب ہمیں کوئی پروا نہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی ادھار نہیں رکھا۔کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد ہی ان کو کہیں سے کچھ اور رقم بھی آگئی جو کافی رقم تھی اور پھر ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام ہو گیا۔قرغزستان کے مبلغ سلسلہ ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک مخلص قرغز احمدی قوبت (Kubat) صاحب بشکیک (Bishkek) میں رہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے وقف جدید کے لیے ایک ہزار ٹم (Som) دینے کا وعدہ کیا تھا۔سم قرغز کرنسی ہے۔مالی سال ختم ہونے سے ایک ماہ قبل ہماری جماعت کے صدر صاحب نے خطبہ میں وقف جدید کے چندے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔کہتے ہیں انہوں نے خطبہ میں ہمارے خلیفة المسیح کے کسی گذشتہ خطبہ کے واقعات پڑھ کر سنائے تو کہتے ہیں میں نے اپنے کیے ہوئے وعدہ ایک ہزار ٹم میں سے اس وقت تک صرف