خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 382

خطبات مسرور جلد 19 382 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء بمطابق 02/ وفا 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج کل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر چل رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بھی بیان کروں گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت عمرؓ کے متعلق ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے ماتحت جب یہودیوں اور عیسائیوں کو یمن سے نکالا تو آپ نے ان کی زمینیں ضبط نہیں کیں بلکہ ان کی زمینیں خریدیں۔مزید فرماتے ہیں کہ یمن کی زمین جو عیسائیوں اور یہودیوں کے نیچے تھی وہ خراجی تھی لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ زمین یہودیوں اور عیسائیوں سے لے لی اور ان کو عرب کے جزیرے سے نکال دیا تو باوجود اس کے کہ وہ زمین خراجی تھی اور اصولی طور پر حکومت اس کی مالک سمجھی جاتی تھی انہوں نے وہ زمین ان سے چھینی نہیں بلکہ خریدی۔چنانچہ فتح الباری شرح بخاری میں یہ حدیث درج ہے کہ: عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ أَجْلُى أَهْلَ نَجْرَانَ وَالْيَهُودَ وَالنَّصَارِي وَاشْتَرِي بَيَاضَ أَرْضِهِمْ وَكُرُوْمَهُمْ۔یعنی یحیی بن سعید روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے نجران کے مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کو وہاں سے جلا وطن کر دیا اور ان کی زمینیں اور باغ خرید لیے۔یہ ظاہر ہے کہ یہودیوں کی زمین عشری نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر وہ عشری تھی تو اس کا مالک کوئی مسلمان ہو گا۔پس یہودیوں سے اس کے خریدنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔وہ یقیناً خراجی تھی جیسا کہ ہندوستان کی زمین کو خراجی قرار دیا جاتا ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو خراجی قرار دے کر اور حکومت کو اس کا مالک قرار دے کر اس کو ضبط نہیں کیا بلکہ اس کو خریدا۔شاید کوئی کہے کہ یہ زمین نہ خراجی ہوگی نہ عشری بلکہ کسی اور قسم کی ہوگی تو یہ خیال بیہودہ ہو گا اور اسلامی شریعت سے ناواقفی کی علامت ہو گا۔عشری اور خراجی کے سوا اور کوئی زمین اسلام میں نہیں سوائے اِس کے کہ وہ بے کار پڑی ہوئی ہو اور اس کا مالک کوئی فرد واحد نہ ہو۔پس لازما یہودی اور نصرانی اور مشرک اہل نجران کی زمینیں یا خراجی تھیں یاعشری تھیں مگر دونوں صورتوں میں ان کا مالک حضرت عمرؓ نے ان کے قابضوں کو قرار دیا اور ان سے وہ زمینیں خریدی گئیں۔(ماخوذ از اسلام اور ملکیت زمین۔انوار العلوم جلد 21 صفحہ 478،444-479)