خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 383

خطبات مسرور جلد 19 383 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2021ء اسلام میں جنگی قیدیوں کے علاوہ غلام بنانے کی ممانعت کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ " فرماتا ہے: تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا - (الانفال: 68) اے مسلمانو! کیا تم دوسرے لوگوں کی طرح یہ چاہتے ہو کہ تم غیر اقوام کے افراد کو پکڑ کر اپنی طاقت اور قوت کو بڑھالو۔وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ (الانفال: 68) اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم دنیا کے پیچھے چلو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں ان احکام پر چلائے جو انجام کے لحاظ سے تمہارے لئے بہتر ہوں اور اگلے جہان میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کا مستحق بنانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور انجام کے خوشگوار ہونے کے لحاظ سے یہی حکم تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم سوائے جنگی قیدیوں کو جنہیں دوران جنگ گرفتار کیا گیا ہو اور کسی کو قیدی مت بناؤ۔گویا جنگی قیدیوں کے سوا اسلام میں کسی قسم کے قیدی بنانے جائز نہیں۔اس حکم پر شروع اسلام میں اس سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ایک دفعہ یمن کے لوگوں کا ایک وفد آپ کے پاس آیا اور اس نے شکایت کی کہ اسلام سے پہلے ہم کو مسیحیوں نے بلا کسی جنگ کے یونہی زور سے غلام بنالیا تھا ورنہ ہم آزاد قبیلہ تھے۔ہمیں اس غلامی سے آزاد کرایا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گو یہ اسلام سے پہلے کا واقعہ ہے مگر پھر بھی میں اس کی تحقیقات کروں گا۔اگر تمہاری بات درست ثابت ہوئی تو تمہیں فوراً آزاد کرا دیا جائے گا۔لیکن اس کے بر خلاف " حضرت مصلح موعودؓ مقابلہ کر رہے ہیں آج کل کے یورپ کا کہ یہ تو اسلامی تھی جس پر حضرت عمر نے عمل کروایا یا اس بارے میں ان کو تسلی کروائی لیکن اس کے بر خلاف یورپ میں کیا ہوتا ہے " یورپ اپنی تجارتوں اور زراعتوں کے فروغ کے لئے انیسویں صدی کے شروع تک غلامی کو جاری رکھتا چلا گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کی تاریخ سے ایک غیر اسلامی غلامی کا بھی پتہ لگتا ہے مگر پھر بھی غلاموں کے ذریعہ سے ملکی طور پر تجارتی یا صنعتی ترقی کرنے کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔" تعلیم اسلام کا اقتصادی نظام۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 26-27) اسلام میں یہ کوئی تصور نہیں۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں بہت سخت قحط پڑ گیا مدینہ اور اس کے گردو نواح میں سخت قحط پڑا۔جب تیز ہوا چلتی تو راکھ کی طرح مٹی اڑ آتی تھی۔اس وجہ سے اس سال کا نام عام الرمادة، راکھ کا سال رکھ دیا گیا۔(تاریخ طبری جلد2 صفحه 508 سنة 18 دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) عوف بن حارث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اس سال کا نام عام الرمادة یعنی راکھ کا سال اس لیے رکھا گیا کہ ساری زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو کر راکھ کے مشابہ ہو گئی تھی اور یہ کیفیت نو (9) ماہ رہی۔حزام بن ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اٹھارہ ہجری میں لوگ جب حج سے واپس ہوئے تو انہیں سخت