خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 380
380 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء خطبات مسرور جلد 19 دوسروں کے لیے نمونہ تھیں۔محبت اور اخلاص کے ذریعہ انہوں نے تبلیغ کا کام کیا اور نئے مہمانوں کا خیال رکھنے میں سب سے اول درجہ پر تھیں۔نوجوان عورتوں اور بوڑھی خواتین دونوں کے لیے اچھا نمونہ تھیں۔یہ خاتون لکھتی ہیں کہ جیسے جیسے میں عمر رسیدہ ہو رہی ہوں، ویسے ویسے ان کی عزت میرے دل میں بڑھتی جارہی ہے۔پھر لکھتی ہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں خدمت خلق کرنی چاہیے۔غریبوں اور ضرور تمندوں کا خیال رکھنا چاہیے جبکہ آنٹی نوشی نے غیر رشتہ دار افراد کی خدمت کے لیے سالہا سال سے اپنی ذات کے لیے وقت ختم کیا ہوا تھا یعنی اپنا وقت اپنے لیے کوئی وقت نہیں تھا، خدمت کرتی تھیں۔اسی طرح بعض اور احمدی خواتین خاص طور پر افریقن امریکن خواتین نے لکھا ہے کہ ہم سے انہوں نے بڑا پیار کا تعلق رکھا اور احمدیت کی تعلیم کے بارے میں بہت کچھ ہمیں بتایا۔اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو بھی ہمیشہ ان کی نیکیاں جاری رکھنے اور خلافت سے وابستہ رہنے کی توفیق دے۔خلافت کے ساتھ انہوں نے وفا کا رشتہ نبھایا ہے۔میں نے تو یہ دیکھا ہے۔اپنے ساتھ بھی میں نے دیکھا کہ کامل اطاعت اور عاجزی کا نمونہ انہوں نے دکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔اگلا ذ کر مکرمہ بسم اللہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ناصر احمد خان صاحب بہادر شیر سابق افسر حفاظت خاص کا ہے جن کی جرمنی میں 14 جون کو 84 سال کی عمر میں وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَیهِ رجِعُونَ۔ان کے خاندان میں احمدیت ان کے والد حضرت چودھری مظہر الحق خان صاحب کا ٹھگڑھی کے ذریعہ آئی تھی۔قادیان کے بورڈنگ سکول میں بھی انہیں کام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں اپنا ایک کرتہ بطور تبرک عنایت فرمایا تھا۔ان کی پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ان کے ایک بیٹے محمود احمد صاحب مربی سلسلہ اور مشنری انچارج ہیں۔فجی میں امیر جماعت بھی ہیں۔محمود احمد صاحب جو ہمارے مبلغ ہیں یہ لکھتے ہیں کہ والد محترم کی وفات کے بعد زمینوں سے جو بھی رقم آتی تھی سب سے پہلے اس میں سے چندہ ادا کرتی تھیں۔والد صاحب کی پینشن کی رقم جمع کرتیں اور کسی استعمال میں نہ لگا تھیں۔ان پیسوں سے طاہر آباد جنوبی میں مسجد بنوائی۔انہوں نے ہمیں ہمیشہ یہی نصیحت کی کہ خلافت کے دامن کو پکڑے رکھنا۔پھر لکھتے ہیں کہ والد صاحب کی وفات کے بعد ہم سب کو ماں اور باپ دونوں کی محبت دی اور کبھی بھی ہمیں والد کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔اس وقت میں جامعہ احمدیہ کے پہلے سال میں تھا۔مجھے اکثر کہا کرتی تھیں کہ تم دین کے سپاہی ہو۔تم نے دین کی خاطر وقف کیا ہے۔جہاں خلیفہ وقت کھڑا کر دے وہیں کھڑے ہو جانا اور آخر تک اسی بات کو دہراتی رہیں۔لکھتے ہیں کہ ابتدا میں ہمارے گاؤں سے صرف والد صاحب ہی ربوہ آکر آباد ہوئے اس لیے ہمارے تمام عزیز و اقارب اکثر گاؤں سے ربوہ آتے رہتے تھے۔ان کے قیام وطعام کا بڑی خندہ پیشانی سے انتظام کیا کرتیں اور سفید پوشی کے ساتھ اپنی ہمت سے بڑھ کر مہمان نوازی کرتی تھیں۔ہمسایوں کے حقوق کا خیال رکھنا آپ کو بخوبی آتا تھا۔میرے کلاس فیلوز کو بھی ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح سمجھا۔اکثر کہتیں کہ جو ہوسٹل میں رہنے والے بچے ہیں، جو باہر کے ملکوں سے آئے ہوئے ہیں ان کو گھر لے آیا کرو تا کہ ان کا جامعہ میں دل لگار ہے۔کہتے ہیں والدہ محترمہ کی شفقت اکثر جامعہ کے طلبہ کو ملتی رہی جس کے کئی مربیان گواہ ہیں۔ماں کی اس شفقت میں پاکستان کے علاوہ انڈو نیشیا اور افریقن ممالک کے طلبہ بھی شامل