خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 379

379 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء خطبات مسرور جلد 19 کہ اللہ کے احسانات اور کرم ہم پر بہت زیادہ ہیں۔میں نے یہ بات ہمیشہ ان کے منہ سے سنی کہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر شکر کرو گے تو میں زیادہ دوں گا اس لیے ہمیشہ میرے شکر گزار بنو۔دل کو کھلا اور کشادہ رکھنا، مہمان نوازی کرنا۔لوگوں کے لیے حقیقی ہمدردی، صلہ رحمی کی خوبیوں کا اظہار بہت زیادہ تھا۔کہتی ہیں اپنی ماں کے منہ سے میں نے بے شمار دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جملہ سنا ہے کہ صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ کوئی تم سے صلہ رحمی کرے تو تم صلہ رحمی کرو۔صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ تم سے قطع رحمی کرے اور تم اس سے صلہ رحمی کرو۔اپنے ہر رشتہ اور تعلق میں میں نے امی میں یہ خوبی دیکھی ہے جو ہر کسی میں خوبی ڈھونڈتی تھیں۔رحمی رشتوں اور جماعت کے لوگوں کا بھی اور ہمسایوں کا بھی خیال رکھنے والی تھیں۔کوئی نیا مہمان مسجد میں آتا تو اسے ڈھونڈتی تھیں اور پھر اس کے ساتھ بیٹھ کے باتیں کرتی تھیں اور اس کو خوش آمدید کہتی تھیں۔بے شمار لوگوں نے کہا ہے کہ وہ محبت کرنے والا وجود تھا۔ان کی دوسری بیٹی نے بھی لکھا ہے کہ جماعت کے لوگوں ، خاص طور پر نومبائعین کے ساتھ بہت زیادہ محبت کا تعلق تھا اور لوگوں نے بھی ان سے بہت پیار کیا۔ہر انسان کی مدد کرنا چاہتی تھیں۔یہ فکر ہوتی تھی کہ یہ نہ ہو کہ وہ کسی سے ملیں اور کوئی ضرورت ہو اور وہ اسے پورا نہ کر سکیں۔امۃ النور صاحبہ کی بڑی بہن امتہ البصیر صاحبہ لکھتی ہیں کہ سسٹر شکورہ ایک افریقن امریکن خاتون تھیں۔یہ جب حج پر گئیں تو انہوں نے خواب میں دیکھا کہ نوشی کا گھر یعنی امتہ النور صاحبہ کا گھر مکہ میں ہے۔ان کو گھر میں نوشی کہتے تھے۔جب سسٹر شکورہ ان کے پاس آگئیں تو انہوں نے کہا کہ اس سے یہی مراد ہے کہ آپ میرے پاس آگئی ہیں اور میں آپ کی خدمت کر رہی ہوں۔ان کی بہن امتہ البصیر صاحبہ لکھتی ہیں کہ اٹھارہ سال سسٹر شکورہ جو افریقن امریکن تھیں نوشی کے پاس رہیں۔آٹھ سال تو بالکل ہی بستر پر تھیں، نظر بھی چلی گئی تھی اور نوشی نے بہت ہی خیال رکھا۔نمازیں بھی ان کو پڑھاتی تھیں کیونکہ وہ بھول جاتی تھیں۔میں نے بھی دیکھا ہے کہ سسٹر شکورہ کا بڑا خیال رکھتی تھیں۔جب میں امریکہ گیا ہوں تو خود وہیل چیئر پر بٹھا کر انہیں میرے سے ملانے کے لیے بھی لے کے آئی ہیں اور سسٹر شکورہ بھی ان کی خدمت کی بڑی شکر گزار تھیں۔تبلیغ کا شوق تھا۔کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کے متعلق بتانے کی کوشش کرتیں۔کوئی پوچھ لیتا کہ پاکستان میں کس جگہ سے آئی ہیں تو ہمیشہ ربوہ کا نام لیتیں اور پھر آگے بات شروع ہو جاتی۔یہودی مذہب کی ایک فیملی کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔اس خاندان میں ایک خاتون کا نام رقیہ اسد ہے وہ امریکہ کی نیشنل عاملہ میں بھی شامل رہی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ امتہ النور صاحبہ کا وجود بہت پیارا تھا جن سے بہت سے لوگ مستفید ہوئے۔جسے بھی ان کی صحبت کا موقع میسر آیا وہ سب ان کی خوبیوں کو سراہتے ہیں۔انہوں نے عملی طور پر اپنی زندگی اسلام احمدیت کے مطابق گزاری جس کے نتیجہ میں لوگ ان سے متاثر ہوتے اور وہ لوگوں کے لیے نمونہ تھیں۔واقعاتی رنگ میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں لجنہ کی تربیت کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا۔انہوں نے ہر پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور رضاکارانہ طور پر ہمیشہ خدمات فراہم کیں۔صبر ، استقامت اور عزم کے ساتھ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کیا اور اس حوالے سے وہ