خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 378

خطبات مسرور جلد 19 378 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء طرح ننھیال کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی پڑ نواسی بھی تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت سیدہ امتہ الحئی صاحبہ کی نواسی، صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت پروفیسر علی احمد صاحب آف بہار کی پوتی تھیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ان کے میاں ڈاکٹر عبد المالک شمیم صاحب تھے جو مولوی عبد الباقی صاحب کے بیٹے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بیٹیوں سے نوازا۔ان کے نکاح کے خطبہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیات جو نکاح میں تلاوت کی جاتی ہیں وہ پڑھنے کے بعد فرمایا کہ ان آیات میں جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں ایک بات یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ اصلاح اعمال کے لیے قول سدید کا ہونا ضروری ہے۔اکثر تکالیف اور پریشانیاں بد اعمالیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور جہاں تک آپس کے تعلقات کا تعلق ہے بد اعمالیوں کی وجہ قولِ سدید کا نہ ہونا ہے۔اگر صاف اور سیدھی مومنانہ بات کی جائے تو کسی غلط فہمی کا امکان نہیں رہتا اور کسی بد مزگی اور پریشانی کا خطرہ نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو اعمال صالحہ بجالانے کی توفیق عطا کرے اور ہم سب کے اعمال کی اصلاح کے سامان پیدا کرے اور ہمیں قول سدید کی ایسی عادت ہو جائے کہ یہ چیز ہمارے لیے ایک طرہ امتیاز بن جائے۔پھر ان کے ساتھ پانچ چھ اور بھی نکاح ہوئے تھے ، ان کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ ایک نکاح تو رشتہ کے لحاظ سے اور پیار کے تعلق کے نتیجہ میں میری اپنی بچی کا ہے۔یہ بچی میاں عبد الرحیم صاحب اور میری چھوٹی ہمشیرہ امۃ الرشید بیگم کی بچی امتہ النور ہے جن کا نکاح ڈاکٹر عبد المالک شمیم کے ساتھ ہو رہا ہے جو مولوی عبد الباقی صاحب کے بیٹے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس رشتہ کو بھی اور بقیہ پانچ رشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بہت سی خوشیوں کا وارث بنائے ہر دو افراد کے لیے بھی اور احمدیت کے لیے بھی۔اصل نیست تو اسلام کی بھلائی کی ہونی چاہیے۔احمدیت نے ایک لمبے عرصہ کی جدوجہد کے بعد غلبہ اسلام کی راہ میں آخری اور انتہائی کامیابی حاصل کرنی ہے اس لیے ایک کے بعد دوسری نسل کا صحیح تربیت پانا اور ان کا صحیح ذہنیت کا حامل ہو ناضروری ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو انسان کی ساری کوششیں ناکارہ اور بریکار اور بے نتیجہ ہیں۔پس ہم دعا کرتے ہیں کہ ان رشتوں میں سے اور جو رشتے جماعت کے اندر ہو چکے ہیں یا آئندہ ہونے والے ہیں ان رشتوں کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی مضبوطی اور اسلام کے استحکام کے سامان پیدا ہوں۔(ماخوذ از خطبات ناصر جلد 10 صفحہ 478-479) صاحبزادی امۃ النور صاحبہ کو جماعتی خدمات کی بھی توفیق ملی۔نیشنل سیکرٹری تربیت امریکہ رہیں، نیشنل نائب صدر امریکہ رہیں، لوکل صدر لجنہ واشنگٹن رہیں اور مختلف کمیٹیوں کی ممبر رہیں۔ان کی بڑی بیٹی امتہ المجیب کہتی ہیں کہ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔لوگوں کے لیے بے حد ہمدرد تھیں۔امی اگر کسی کی مدد کر سکتیں تو غیر معمولی طور پر مدد کیا کرتی تھیں۔اپنی عبادت کا بہت زیادہ خیال رکھنے والی تھیں۔پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ کہتی ہیں جب بھی میں نے دیکھا روزانہ کبھی بھی رات کو آنکھ کھلی تو ان کو تہجد پڑھتے ہوئے دیکھا۔امتہ النور صاحبہ کے خاوند کافی عرصہ ہوا ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئے تھے۔بیٹی کہتی ہے کہ ہمارے والد کی وفات کے بعد میں سال بیوگی میں گزارے۔اس حالت میں بھی انہوں نے اللہ پر کمال درجہ کا تو گل کیا۔شکر گزاری کا پہلو بہت نمایاں تھا۔کہتی تھیں