خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 377

خطبات مسرور جلد 19 377 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء ہوئے اور اس مقصد کے سفر میں اللہ تعالیٰ کے حضور بھی حاضر ہوئے۔انہوں نے یقینا شہادت کا درجہ پایا ہو گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں شہادت کا درجہ عطا فرمائے اور شہداء میں شمار فرمائے۔ان کے والد محترم خادم حسین وڑائچ صاحب نے بتایا کہ ہمیں نظر آرہا تھا کہ ہمارا یہ بیٹا آگے بڑھتا جارہا ہے اور ایک پہاڑ کے بعد دوسرے پہاڑ پر چڑھ رہا ہے۔اس نے بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔میرے دوست میرے سے پوچھا کرتے تھے کہ آپ ان کو روکتے کیوں نہیں ہیں۔یہ بہت خطرناک شوق ہے۔میں جواب دیا کرتا تھا کہ میرے روکنے سے بھی یہ نہیں رکے گا کیونکہ اس کے اندر ایک جذبہ ہے کہ میں نے جماعت کا جھنڈا دنیا کی ہر اونچی جگہ پر لہرانا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا پیغام پہنچانا ہے۔ایک دوست لکھتے ہیں کہ خاکسار نے ایک دفعہ صدر صاحب سے پوچھا کہ جب آپ پہاڑوں پر چڑھتے ہیں تو اپنے آپ کو motivate کرنے کے لیے فون پر کیا سنتے ہیں تو صدر صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ڈاؤن لوڈ (download) کی ہیں اور سفر میں ان کو سنتا ہوں۔اس طرح کہتے ہیں میں نے صدر صاحب سے ایک مرتبہ پوچھا کہ اتنی اونچائی پر اور ٹھنڈ میں اپنی عبادت کس طرح کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مربی صاحب مجھے پہاڑوں پر عبادت کرنے کا بہت مزہ آتا ہے۔میرے دل میں یہ خیال گزرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء بھی پہاڑوں پر گوشہ نشینی میں دنیا کے شور سے دور جاکر عبادت کیا کرتے تھے۔کہتے ہیں مجھے عبد الوحید وڑائچ صاحب نے بتایا، ایک سفر کا واقعہ سنایا کہ ایک مر تبہ دنالی (Denali) پہاڑ پر جو کہ نارتھ الاسکا میں ہے اور دنیا کا سب سے ٹھنڈا پہاڑ ہے اس پر چڑھنے کے دوران آپ کی شہادت کی انگلی جم گئی جو فریز ہو جاتی ہیں اور زخم ہو گیا۔یہ بالکل جم گئی تھی۔اور جسم کا ایک حصہ ہی نہیں رہا تھا جب آپ نے ڈاکٹر کو وہ زخم دکھایا، تو ڈاکٹر نے کہا کہ اس کو ہمیں فوری طور پر کاٹنا پڑے گا یہ بے کار ہو گئی ہے۔صدر صاحب نے جواب دیا کہ یہ شہادت کی انگلی ہے۔اس کے ساتھ ہم نماز میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں۔میں اس انگلی کو ہر گز نہیں کٹواؤں گا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور پھر ایسا ہوا کہ دعاؤں سے وہ انگلی مکمل طور پر ٹھیک ہو گئی۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو ان کی خوبیاں لوگوں نے بیان کی ہیں اور میں نے بھی جو ان میں دیکھی ہیں وہ اس سے بہت بڑھ کر ان خوبیوں میں تھے۔خلافت کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے، صرف باتیں کرنے والے نہیں بلکہ وفا اور اخلاص میں بڑھے ہوئے تھے اور بڑھتے چلے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ایسے لوگوں میں سے تھے جن کے جانے سے خلا پیدا ہو جاتا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی وحدانیت کا جھنڈ اہر اونچی جگہ پر گاڑنا ان کا مقصد تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند فرمائے۔دوسر ا ذکر محترمہ امۃ النور صاحبہ کا ہے جو ڈاکٹر عبد المالک شمیم صاحب کی اہلیہ تھیں اور صاحبزادی امۃ الرشید بیگم اور میاں عبد الرحیم صاحب کی بیٹی تھیں۔15 جون کو واشنگٹن میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔خدا کے فضل سے موصیہ تھیں۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پڑ نواسی اور اسی