خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 376

خطبات مسرور جلد 19 376 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء (Silicon Valley) لے جا رہے ہیں اور انہوں نے مجھے آفر دی ہے کہ ہمارے ساتھ چلیں۔وہ ساری سہولتیں مہیاہوں گی اور تنخواہ بھی بڑھ جائے گی اور سوئٹزرلینڈ سے آپ کا سامان، سب کچھ ہم وہاں منتقل کریں گے تو آپ نے بتایا کہ میں نے انہیں انکار کر دیا ہے کیونکہ میرے ذمہ یہاں جماعتی خدمات ہیں۔میں ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا کہ یہاں سے انکار کر دوں اور وہاں چلا جاؤں۔پھر اس کے کچھ دنوں کے بعد آپ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس برانچ کو سوئٹزرلینڈ کی بڑی کمپنی سوئس کام نے خرید لیا ہے اور کہنے لگے کہ وہ تو مجھے وہاں لے جارہے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں انتظام کر دیا اور نہ صرف یہاں بلکہ اللہ کا ایسا فضل ہوا ہے کہ میری جو یہاں تنخواہ ہے وہ اپنے باس (boss) سے بھی زیادہ ہے۔نیشنل سیکرٹری امور خارجہ زاہد صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں ان کو چھبیس سال سے جانتا تھا۔خدام الاحمدیہ ہی میں ان کے ساتھ خدمت کا موقع ملتا رہا۔انتہائی شریف النفس، صوم و صلوۃ کے پابند ، دعا گو، انتہائی محنتی، خلافت کے فدائی اور فرمانبردار، شفیق دوست اور ملنسار انسان تھے۔جوانی کی عمر سے ہی باقی نوجوانوں سے الگ طبیعت کے مالک تھے۔مرحوم کو کبھی بھی غصہ میں نہیں دیکھا۔نہ ہی کبھی اس کا تاثر ان کے چہرے پر دیکھا یا لہجے میں محسوس کیا۔کبھی بآواز بلند یا سختی سے بات کرتے نہیں دیکھا۔غلطیاں بھی سرزد ہوتی تھیں ہمیشہ ہمیں علیحدگی میں نرمی سے سمجھا دیتے تھے۔بڑوں اور چھوٹوں سے ہمیشہ خوش خلقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر ہوتی تھی۔جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لیے تیار رہنے کی زندہ مثال تھے۔سوئٹزرلینڈ کے بیسیوں ایسے نوجوان ہیں جن کی مرحوم نے تعلیم اور مستقبل کے بارے میں نہ صرف راہنمائی کی بلکہ در جنوں کو حصولِ روزگار میں بھی مدد کی۔خدام الاحمدیہ کے تحت انہوں نے احمد یہ ہائیکنگ کلب بھی قائم کیا اور بیسیوں نوجوانوں کو ہائیکنگ سے متعارف کروایا۔غیر معمولی عزم رکھنے والے انسان تھے۔کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو ہائیکنگ کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا؟ کہا کہ لگتا ہے اور میری فیملی بھی اس کو نا پسند کرتی تھی لیکن میں نے اس کا حل یہ نکالا کہ میں نے خلیفہ وقت سے ملاقات کی۔مجھ سے یہ ملے۔اور سوچا کہ ان کے سامنے یہ تجویز پیش کروں۔اگر تو انہوں نے اجازت دے دی۔اگر میری طرف سے ان کو اجازت مل گئی تو پھر کہتے ہیں میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں سات بر اعظموں کی چوٹیوں کو سر کر کے ان پر لوائے احمدیت لہراؤں گا۔انہوں نے بتایا کہ انہیں خوف تھا کہ میں کہیں ان کو منع نہ کر دوں مگر میں نے انہیں کہا کہ اگر جاسکتے ہو تو جھنڈے گاڑ دو۔تواب میں انشاء اللہ ایسا ہی کروں گا۔تو اس نوجوان نے پھر کبھی مڑ کر واپس نہیں دیکھا اور اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انتھک محنت کی اور ایک کے بعد دوسری چوٹی سر کرتے گئے۔مرحوم کو دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر بھی لوائے احمدیت کے لہرانے کا شرف حاصل ہوا۔یہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ خاکسار کو یہ علم تو نہیں کہ ان کی موت شہادت کہلائی جاسکتی ہے یا نہیں لیکن اپنے مشاہدے سے کہہ سکتا ہوں کہ مرحوم میں وہ جذبہ ایمان تھا جو ایسے نیک لوگوں کو ہی حاصل ہو تا ہے جو شہادت کے طلبگار ہوں۔لیکن میرے خیال میں یقیناً ایک نیک مقصد اور جذبہ کے ساتھ انہوں نے اسلام اور احمدیت اور خدا تعالیٰ کی توحید کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے اور اس میں کامیاب بھی