خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 375
خطبات مسرور جلد 19 375 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء یہ وہ مساوات تھی جو اسلامی حکومت نے قائم کی اور آج کی اسلامی حکومتوں کے لیے بھی یہ سبق ہے۔یہ ذکر اب انشاء اللہ آئندہ چلے گا۔اس وقت میں کچھ مرحومین کا ذکر کروں گا۔اس میں سے پہلا ذکر ہے عبد الوحید وڑائچ صاحب کا جو والڈ ز ہوٹ (Waldshut) جرمنی کے صدر جماعت تھے۔سابق صدر خدام الاحمدیہ اور سابق نیشنل سیکرٹری تربیت سوئٹزر لینڈ بھی تھے۔یہ 12 مئی کو ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی کے ساتھ سر کرنے اور اس پر لوائے احمدیت لہرانے کے بعد نیچے اترتے ہوئے طبیعت خراب ہونے پر 41 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔ان کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔والدین ہیں۔ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔امیر صاحب سوئٹزرلینڈ طارق تار نستر صاحب لکھتے ہیں کہ عبد الوحید وڑائچ صاحب شروع سے لے کر اپنی وفات تک ہمیشہ جماعت کے ایک فعال ممبر رہے۔بطور ممبر جماعت اور عہدیدار مرحوم ایک مثالی احمدی تھے۔وہ ایک وفادار احمدی تھے۔عبد الوحید وڑائچ صاحب جماعتی خدمات ہمیشہ نہایت عاجزی کے ساتھ بجالاتے تھے۔ان کے اوصاف میں تکبر کی کوئی جگہ نہیں تھی۔وہ انسانی خدمت کا نہ صرف درس دیتے تھے بلکہ خود اپنے نمونے کے ساتھ کر کے دکھاتے تھے۔IAAAE کے مختلف پراجیکٹس کے لیے افریقہ بھی گئے اور وہاں انسانیت کی خدمت کی جسے دیکھ کر کئی نوجوان بھی ان کی مثال پر چلتے ہوئے افریقہ گئے۔صدر مجلس خدام الاحمدیہ جب مقرر ہوئے تو نئے نئے مواقع تلاش کرتے تھے جن سے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو سکے اور انہیں یورپ کی مادیت پسند سوچ اور دلچسپی سے بچایا جاسکے۔مالی قربانی بھی ان کی مثالی تھی۔اور یہی امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے بیٹے عزیزم طلحہ وڑائچ جو اس وقت جامعہ احمدیہ جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس کی تربیت بھی بڑی اچھی کی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کا بچہ جامعہ میں پڑھ رہا ہے۔اختصار کے ساتھ اگر کہا جائے تو عبد الوحید وڑائچ صاحب مرحوم حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے ایک مثالی احمدی تھے۔غیر از جماعت احباب نے بھی ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔مسٹر سٹیفن لارچ Mr۔Stefan) ( Lorch لکھتے ہیں کہ وحید وڑائچ صاحب نے ان کے ساتھ کئی سال سوئس کام (Swisscom) کمپنی میں کام کیا جو سوئٹزرلینڈ کی سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ہے اور تقریباً ایک سال ان کے ساتھ ان کی ٹیم میں کام کرتارہا ہوں۔میں ان کی صرف ان کی فیلڈ میں قابلیت کی وجہ سے قدر نہیں کرتا تھا بلکہ خاص طور پر ان کے طرز عمل کی وجہ سے۔وحید وڑائچ صاحب ہمیشہ خوش اخلاقی سے پیش آتے۔وہ دوسروں کی مدد کرنے والے دیانتدار اور قابل اعتماد شخصیت کے مالک تھے۔مجھے ان سے کام سے ہٹ کر بھی گفتگو کرنا بہت پسند تھا۔مربی صاحب لکھتے ہیں کہ موصوف نہایت اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے۔خلافت سے عشق تھا۔باقاعد گی سے نماز جمعہ مسجد میں ادا کرتے اور باقی نمازیں بھی مسجد میں ادا کرنے کی کوشش کرتے۔تہجد گزار تھے۔ان کے نیشنل سیکرٹری مال رضوان صاحب کہتے ہیں کہ مائیکروسافٹ کمپنی کی سوئٹزرلینڈ برانچ میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر جاب کر رہے تھے تو ایک دفعہ مجھے کہنے لگے کہ مائیکروسافٹ سوئٹزرلینڈ کی برانچ ختم کر کے سیلیکون ویلی