خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 372 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 372

خطبات مسرور جلد 19 372 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء اس کی تفصیل میں ایک جگہ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا اس عورت سے ، جو شعر پڑھ رہی تھی اس کے شعر سن کے پوچھا کہ تم نے کوئی برائی کا ارادہ تو نہیں کیا ؟ اس عورت نے کہا کہ اللہ کی پناہ۔حضرت عمر نے اس عورت کو فرمایا کہ اپنے آپ پر قابورکھو۔اس کی طرف میں ابھی خط روانہ کر رہا ہوں یعنی تمہارے خاوند کی طرف میں ابھی خط روانہ کر رہا ہوں۔چنانچہ آپ نے اس کی طرف قاصد کو بھجوایا تا کہ اس کو واپس بلایا جائے۔پھر آپ نے مزید تحقیق کی اور پھر جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ چار مہینہ کا زیادہ سے زیادہ عرصہ رکھا کہ اس عرصہ سے زیادہ خاوند باہر نہ رہے یا پھر بیوی بچے ساتھ ہوں۔(ماخوذ از تاريخ الخلفاء للسيوطي صفحه 111 فصل في نبذ من أخباره وقضاياه مطبوعه دارالکتاب العربی بيروت 1999ء) اسلم، حضرت عمرؓ کے وہی آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں حضرت عمرؓ کے ساتھ مدینہ کے بیرونی حصہ میں گیا تو ہمیں ایک خیمہ نظر آیا۔ہم نے اس خیمہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس خیمے میں ایک عورت دردِ زہ میں مبتلا ہے اور رورہی ہے۔حضرت عمرؓ نے اس سے اس کا حال دریافت فرمایا تو اس نے دردزہ مبتلا کا تو عرض کیا۔میں ایک مسافر پر دیسی عورت ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے۔اس پر حضرت عمر رو پڑے اور تیزی سے اپنے گھر واپس لوٹے اور اپنی اہلیہ حضرت ام کلثوم بنت علی سے فرمایا کیا تم اجر حاصل کرنا چاہتی ہو جو اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔آپ نے ساری بات ان کو بتائی۔اس پر انہوں نے کہا جی ضرور۔پھر حضرت عمرؓ نے اپنی پشت پر آٹا اور چربی اٹھائی اور حضرت ام کلثوم نے زچگی کی ضرورت کا سامان اٹھایا اور وہ دونوں آئے۔حضرت ام کلثوم اس عورت کے پاس گئیں اور حضرت عمرؓ اس عورت کے خاوند کے ساتھ بیٹھ گئے۔وہ خاوند بھی وہاں موجود تھا۔وہ آپ کو نہیں پہچانتا تھا۔آپ اس کے ساتھ گفتگو کرنے لگے۔اس عورت نے لڑکے کو جنم دیا۔حضرت ام کلثوم نے حضرت عمر ہو آ کے بتایا اور عرض کی کہ اے امیر المومنین ! اپنے ساتھی کو لڑکے کی خوشخبری دے دیں۔یعنی وہ جو اس عورت کا خاوند ہے اسے خوشخبری دے دیں کہ لڑکا پیدا ہوا ہے۔جب اس شخص نے حضرت ام کلثوم کی یہ بات سنی تو اس کو احساس ہوا۔اس کو تو نہیں پتہ تھا کہ کس کے ساتھ بیٹھا ہے، کہ وہ کتنے عظیم شخص کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور وہ حضرت عمرؓ سے معذرت کرنے لگا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کوئی بات نہیں۔پھر آپ نے ان کو خرچ اور ضرورت کا سامان پہنچایا اور واپس تشریف لے آئے۔البداية والنهاية لابن كثير جلد 10 صفحه 186 مطبوعه دار هجر 1998ء) سَعِید بن مُسَيَّب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم !حضرت عمر نے جو کچھ کہا اس کو پورا کر دیا۔سختی کرنے کے مواقع پر سختی میں اور نرمی کے مواقع پر نرمی میں بڑھ گئے اور وہ لوگوں کے بال بچوں کے باپ بن گئے یہاں تک کہ ان عورتوں کے پاس جاتے جن کے شوہر باہر گئے ہوئے تھے۔ان کے دروازوں پر پہنچ کر ان کو سلام کرتے پھر کہتے کیا تمہاری کوئی ضرورت ہے؟ یا تم کوئی ضرورت کی چیز منگوانا چاہو تو میں وہ چیز تمہیں بازار سے خرید کر لا دوں گا۔مجھے یہ ناپسند ہے کہ خرید و فروخت میں تمہیں دھوکا دیا جائے تو وہ عورتیں آپ کے ساتھ اپنی بچیوں کو یا بچوں کو بھی بھیج دیتی تھیں۔آپ بازار میں اس طرح جاتے کہ آپ کے پیچھے لوگوں کی