خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد 19 371 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء دیا جائے لیکن ایک دفعہ حضرت عمر سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے۔شہر سے باہر ایک قافلہ بدویوں کا اترا ہوا تھا۔حضرت عمر نے ایک خیمہ سے بچے کے رونے کی آواز سنی۔بچہ چیخ رہا تھا اور ماں تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔جب کچھ مدت تک تھکی دینے کے باوجود بچہ چپ نہ ہوا تو ماں نے بچے کو تھپڑ مار کر کہا۔رو عمر کی جان کو۔حضرت عمر حیران ہوئے کہ اس بات سے میرا کیا تعلق ہے ؟ حضرت عمرؓ نے اس عورت سے خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت لی اور اندر جاکر اس عورت سے پوچھابی بی! کیا بات ہے؟ چونکہ وہ حضرت عمر کو پہچانتی نہ تھی اس لئے کہنے لگی بات کیا ہے ؟ عمر نے سب کے گزارے مقرر کئے ہیں لیکن اس کو یہ معلوم نہیں کہ دودھ پیتے بچوں کے لئے بھی غذا کی ضرورت ہے۔اب میرے پاس دودھ پورا نہیں اور میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے تا اس کا وظیفہ مقرر ہو جائے۔حضرت عمر اسی وقت واپس آئے اور آپ نے خزانے سے آٹے کی بوری نکلوائی اور خود اٹھا کر چلنے لگے۔وہ آدمی جو خزانہ پر مقرر تھے وہ آگے بڑھے کہ ہم اٹھا کر لے چلتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے ان سے کہا تم چھوڑ دو میں خود اٹھا کر لے جاؤں گا۔قیامت کے دن جب مجھے کوڑے لگیں گے تو کیا میری جگہ تم جواب دو گے؟ پتہ نہیں کہ اس طرح میرے ذریعہ کتنے بچے مر گئے ہیں۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے یہ حکم دیا کہ دودھ پیتے بچوں کا بھی وظیفہ مقرر کیا جائے۔" (خطبات محمود جلد 27 صفحہ 353) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " حدیث میں عمار بن خُزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا ہے ؟" وہ آگے مزید درخت نہیں لگا رہا تھا، اپنے باغ کو بڑھا نہیں رہا تھا یا جو خراب پودے تھے ان کی جگہ نئے پودے نہیں لگا رہا تھا۔" تو میرے باپ نے جواب دیا کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔کل مر جاؤں گا۔" مجھے کیا فائدہ اس کا ؟" پس اس کو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگائے۔" یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔لازمی طور پر تم نے یہ درخت لگانے ہیں۔" کہتے ہیں " پھر میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین (ملفوظات جلد دوم صفحہ 92) میں درخت لگاتے تھے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ واقعہ سُستی اور کسل مندی سے بچنے کے ضمن میں بھی بیان فرمایا ہے اور یہ بھی کہ پچھلی نسل کے لگائے ہوئے پودوں کے پھل تم کھا رہے ہو تو اگلی نسل کے لیے بھی پودے چھوڑ کے جاؤ۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو دورہ کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ رات کو شہر میں پھر رہے تھے تو آپ نے ایک عورت کو سنا کہ وہ عشقیہ شعر پڑھ رہی ہے۔آپ نے دن کو تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ اس کا خاوند مدت سے باہر رہتا ہے۔" فوج میں باہر گیا ہوا ہے " آپ نے پھر یہ حکم دے دیا اس کے بعد آپ نے یہ حکم دیا کہ کوئی سپاہی چار ماہ سے زیادہ باہر نہ رہے۔اگر کوئی سپاہی زیادہ مدت تک باہر رہنا چاہتا ہو تو اپنی بیوی کو بھی اپنے ساتھ رکھے ورنہ چار ماہ کے بعد اسے فوج کا افسر مجبور واپس گھر بھیج دے۔" (خطبات محمود جلد 4 صفحہ 63 سال 1914ء)