خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 373 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 373

خطبات مسرور جلد 19 373 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء بچیاں اور بچے اتنے ہوتے کہ ان کا شمار مشکل ہوتا۔پھر آپ ہر ایک کے لیے ان کی ضرورت کی چیزیں خریدتے اور جن عورتوں کا کوئی بچہ نہ ہو تا تو اس کے لیے خود خریداری کرتے۔جب کسی لشکر میں سے کوئی اپیچی آتا تو اس سے ان عورتوں کے شوہروں کے خطوط لے کر خود ان کو پہنچاتے اور ان سے فرماتے کہ تمہارے شوہر اللہ کی راہ میں گئے ہوئے ہیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں ہو۔اگر تمہارے پاس کوئی ہے جو یہ خط پڑھ سکے تو ٹھیک ہے ورنہ دروازے کے قریب کھڑی ہو جاؤ تا کہ میں تمہیں پڑھ کر سنا دوں۔پھر فرماتے کہ ہمارا اینچی یہاں سے فلاں فلاں دن جائے گا تم خط لکھ دینا تا کہ ہم تمہارے خطوط بھیج دیں۔پھر سب عورتوں کے ہاں خطوط کے لیے کاغذ اور دوا تیں لے کر جاتے پھر ان میں سے جو خط لکھ دیتی اس کا خط لیتے اور جو نہ لکھ سکتی تو فرماتے کہ یہ کاغذ اور دوات ہے تم دروازے کے قریب آجاؤ اور مجھے لکھواؤ۔اس طرح آپ ایک ایک دروازے پر جاتے اور ان کے شوہروں کو ان کی طرف سے خطوط لکھتے۔پھر ان خطوط کو بھیج دیتے۔(ماخوذاز ازالۃ الخفاء عن خلافة الخلفاء از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (مترجم) جلد 3 صفحہ 228-229 مناقب فاروق اعظم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) حضرت علی بیان فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ اونٹ کا پالان کندھے پر رکھے ہوئے آبکاخ کی طرف تیزی سے جارہے تھے۔یہ ابطاح بھی مکہ اور منیٰ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔تو حضرت علی کہتے ہیں۔میں نے کہا اے امیر المومنین ! کہاں جارہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: صدقے کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے۔میں اس کو تلاش کرنے جارہا ہوں۔میں نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ ایسی باتیں آپ کر رہے ہیں کہ آپ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کے لیے ایسی راہیں متعین کر دی ہیں کہ جن پر چلنا آسان نہیں ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے ابو الحسن ! مجھے ملامت نہ کرو۔اس کی قسم ہے جس نے محمدؐ کو نبوت کے ساتھ مبعوث کیا! اگر بکری کا بچہ بھی دریائے فرات کے کنارے ضائع ہو گیا تو قیامت کے دن عمر کا اس پر مواخذہ ہو گا۔(ماخوذ از ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (مترجم) جلد 3 صفحہ 286-287 مناقب فاروق اعظم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) (معجم البلدان جلد 1 صفحه 95) حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک مسلمان ایسی حالت میں چلے آرہے تھے کہ انہوں نے گردن نیچی ڈالی ہوئی تھی " یعنی ایک مسلمان شخص تھا جو نیچے گردن جھکائے ہوئے چلا آرہا تھا۔کوئی صدمہ پہنچا ہو گا، کوئی تکلیف پہنچی ہو گی اس وجہ سے پریشان ہو گا۔نیچے گر دن ڈالی ہوئی تھی۔" حضرت عمرؓ نے ان کی ٹھوڑی پر مگامارا اور کہا اسلام کی فتوحات کا زمانہ ہے اور تم اپنی گردن جھکائے پھر رہے ہو! یعنی یہ زمانہ ہے اور اسلام کی فتوحات ہو رہی ہیں۔اگر تمہیں کوئی تھوڑی سی تکلیف پہنچی بھی ہے تو اس کی وجہ سے تم نے اپنا سر نیچے کر لیا ہے۔نیچے گردن جھکا کر چل رہے ہو۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔" خدا تعالیٰ نے اس وقت اسلام کو حکومت دی ہے۔دنیا جو چاہے کہے مگر تم تو یقین رکھتے ہو کہ اسلام کو فتح ہو گی۔اگر تم یقین رکھتے ہو کہ اسلام کو فتح ہوگی تو پھر رونا کیا۔" ( قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی تقدیر تھی۔انوار العلوم جلد 21 صفحہ 379) پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے کی ضرورت نہیں ہے اور یا ایک جگہ سے مسلمانوں کو کہیں بھی کوئی تکلیف