خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 370

370 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء خطبات مسرور جلد 19 کو دیکھ لو۔اُن کے رعب اور دبدبہ سے ایک طرف دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کانپتے تھے۔قیصر و کسری کی حکومتیں تک لرزہ بر اندام رہتی تھیں مگر دوسری طرف اندھیری رات میں ایک بدوی عورت کے بچوں کو بھوکا دیکھ کر عمر جیسا عظیم المرتبت انسان تلملا اٹھا اور اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لاد کر اور گھی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں اٹھا کر ان کے پاس پہنچا اور اس وقت تک واپس نہیں لو ٹا جب تک کہ اس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر ان بچوں کو نہ کھلا لیا اور وہ اطمینان سے سونہ گئے۔" (سیر روحانی (6) - انوار العلوم جلد 22 صفحہ 596) پھر حضرت عمرؓ کے یہی آزاد کردہ غلام اسلم، جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے ، یہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور ان لوگوں نے عید گاہ میں قیام کیا۔حضرت عمر نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے فرمایا کیا تم پسند کرتے ہو کہ ہم رات کے وقت ان کا پہرہ دیں ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔چنانچہ آپ دونوں ساری رات ان کی حفاظت کرتے رہے اور عبادت کرتے رہے۔حضرت عمر نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ اس طرف گئے اور اس کی ماں سے کہا اللہ تعالیٰ کا خوف کرو اور اپنے بچے کا اچھی طرح خیال رکھو۔یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے آئے یعنی واپس اس جگہ تشریف لے آئے جہاں آپے سامان کی حفاظت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے کہ پھر آپ نے اس کے رونے کی آواز سنی۔آپ دوبارہ اس کی ماں کی طرف گئے اور اس کو پھر پہلی بات کی طرح کہا اور اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔جب رات کا آخری وقت ہوا اور بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ اس کی ماں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تیر ابھلا ہو تو بہت لاپر واماں ہے۔مجھے کیا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ ساری رات رونے کی وجہ سے تمہارا بچہ بے چین رہا۔اس عورت نے کہا کہ اے اللہ کے بندے ! میں اس کو دودھ کے علاوہ دوسری خوراک کی طرف مائل کر رہی ہوں لیکن وہ بچہ انکار کر دیتا ہے۔کہتا ہے کہ مجھے دودھ ہی دو۔آپ نے پوچھا وہ کیوں ؟ اس عورت نے کہا کیونکہ حضرت عمرؓ ان ہی بچوں کا وظیفہ مقرر کرتے ہیں جن کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو۔آپ نے پوچھا تمہارے اس بچے کی عمر کتنی ہے ؟ اس عورت نے کہا اتنے (سال) اور اتنے ماہ۔حضرت عمر نے فرمایا تیرا بھلا ہو۔دودھ چھڑانے میں اتنی جلدی نہ کر۔پھر جب آپ نے لوگوں کو فجر کی نماز پڑھائی تو آپ کے رونے کی وجہ سے قراءت لوگوں پر واضح نہیں ہو رہی تھی۔حضرت عمر نے اپنے آپ سے کہا، عمر کا بُرا ہو اس نے کتنے ہی مسلمانوں کے بچوں کا خون کر دیا ہے۔پھر آپ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ اپنے بچوں کو دودھ چھڑوانے میں جلدی نہ کرو۔اسلام میں جو بھی بچہ ہے یعنی اب ہر پیدا ہونے والے بچے کا ہم وظیفہ مقرر کرتے ہیں اور حضرت عمرؓ نے سارے ممالک میں یہ حکم بھجوا دیا۔البداية والنهاية لا بن كثير جلد 10 صفحه 185 - 186 مطبوعه دار هجر 1998ء) اس واقعہ کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنے انداز میں بیان فرمایا ہے کہ حضرت عمرؓ نے شروع شروع میں دودھ پیتے بچوں کے لئے کوئی وظیفہ مقرر نہیں کیا تھا لیکن بعد میں دودھ پیتے بچوں کا حق تسلیم کر لیا اور حکم دیا کہ ان کا حصہ ان کی ماؤں کو دیا جائے۔پہلے حضرت عمرؓ یہ سمجھتے تھے کہ جب تک بچہ دودھ پیتا ہے وہ قوم کے وجود میں حصہ نہیں لیتا۔اس کی ذمہ داری اس کی ماں پر ہے پبلک پر نہیں" ہے کہ بیت المال سے اس کا خرچ