خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 369
خطبات مسرور جلد 19 369 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء اسلامی حکومت کی ذمہ داری بتا رہے ہیں۔اس کے متعلق حضرت عمر کا ایک واقعہ نہایت ہی مؤثر اور کاشف حقیقت ہے۔یعنی حقیقت کو کھولنے والا ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر خلیفہ ثانی باہر جنس کر رہے تھے کہ کسی مسلمان کو کوئی تکلیف تو نہیں۔مدینہ ، دارالخلافہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں مرار نامی ہے۔ہمارے تحقیق کرنے والے کہتے ہیں کہ شاید مرار نہیں بلکہ صرار ہی اس کا نام ہے۔ہو سکتا ہے کاتب کی غلطی کی وجہ سے مرار لکھا گیا ہو۔بہر حال وہاں آپ نے دیکھا کہ ایک طرف سے رونے کی آواز آرہی ہے۔ادھر گئے تو دیکھا ایک عورت کچھ پکار ہی ہے اور دو تین بچے رور ہے ہیں۔اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔اس نے کہا کہ دو تین وقت کا فاقہ ہے۔کھانے کو کچھ پاس نہیں۔بچے بہت بے تاب ہوئے تو خالی ہنڈیا چڑھا دی تاکہ بہل جائیں اور سو جائیں۔حضرت عمرؓ یہ بات سن کر فور آمدینہ کی طرف واپس ہوئے۔آنا، گھی، گوشت اور کھجوریں لیں اور ایک بوری میں ڈال کر اپنے خادم سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دے۔اس نے کہا حضور میں موجود ہوں میں اٹھا لیتا ہوں۔آپ نے جواب دیا: بے شک تم اس وقت اٹھا کر لے چلو گے مگر قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا یعنی ان کی روزی کا خیال رکھنا میرا فرض تھا اور اس فرض میں مجھ سے کوتاہی ہوئی ہے۔اس لیے اس کا کفارہ یہی ہے کہ میں خود اٹھا کر یہ اسباب لے جاؤں اور ان کے گھر پہنچاؤں۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں اس واقعہ سے کوئی یہ مطلب نہ نکال لے کہ ضرورت مندوں کو جو وظائف دیے جاتے ہیں یہ سستی پیدا کرنے کے لیے ہیں بلکہ ہر ضرور تمند کو وظیفہ دینا ہے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ اسلام جہاں غریبوں کی خبر گیری کا حکم دیتا ہے وہاں جیسا کہ پہلے اس ضمن میں بیان ہوا ہے کہ سستی اور کاہلی کو بھی مٹاتا ہے۔وظائف اس لیے نہیں دیے جاتے کہ سستی اور کاہلی پید اہو۔ان وظائف کی یہ غرض نہ تھی کہ لوگ کام چھوڑ کر بیٹھیں بلکہ صرف مجبوروں کو یہ وظائف دیے جاتے تھے ورنہ سوال سے لوگوں کو روکا جاتا تھا۔حضرت عمر مانگنے والوں کو مانگنے سے روکنے کے لیے بھی بہت سخت اقدام کیا کرتے تھے۔یہی نہیں کہ صرف بھوکا دیکھ لیا تو کھانا کھلا دیا، کوئی مانگنے آیا تو اس کو دے دیا بلکہ مانگنے والا اگر صحت مند ہے تو آپ بڑا سخت قدم اٹھایا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک سائل کو دیکھا اس کی جھولی آٹے سے بھری ہوئی تھی۔آٹا اس کی جھولی میں پڑا ہوا تھا اور وہ مانگ رہا تھا۔آپ نے اس سے آٹا لے کر اونٹوں کے آگے ڈال دیا اور اس کی جھولی خالی کر دی اور فرمایا کہ اب مانگ۔اسی طرح یہ ثابت ہے کہ سوالیوں کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔(ماخوذ از احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔انوار العلوم جلد 8 صفحہ 296 297 ) یعنی تم اچھے بھلے انسان ہو۔تمہارا مانگنے سے کیا کام ہے۔محنت کرو، کماؤ اور کھاؤ اور یہ سبق دیا کہ دوبارہ مانگو گے تو دوبارہ تمہارے سے یہی سلوک ہو گا کہ تمہارے سے چھین کے جانوروں کے آگے ڈال دیا جائے گا۔اکثر مانگنے والے یہ ایک مثال دے کر اس پر زور دیتے ہیں کہ دیکھو حضرت عمرؓ کس طرح خیال رکھتے تھے لیکن مانگنے سے جس سختی سے اسلام نے روکا ہے اس کو نہیں دیکھتے اور اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ہے اور حضرت عمرؓ نے بھی پھر اس کو جاری کیا، اس کو نہیں دیکھتے۔پھر اس واقعہ کو ایک اور جگہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے یوں بیان فرمایا کہ "حضرت عمرؓ